لاہور، 19 اکتوبر (اے پی پی): صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق اور چیئرمین بورڈ کیپٹن (ر) زاہد سعید نے نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کینسر ٹریٹمنٹ اینڈ ریسرچ کے زیر تعمیر منصوبے کا دورہ کیا، مختلف حصوں کا معائنہ کیا اور جاری پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا۔وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ حکومت پنجاب 72 ارب روپے کی لاگت سے 915 بستروں پر مشتمل اسٹیٹ آف دی آرٹ کینسر ہسپتال تعمیر کر رہی ہے جو پاکستان کا پہلا مکمل سرکاری کینسر ہسپتال ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے پر دن رات کام جاری ہے اور اسے دو مراحل میں مکمل کیا جائے گا۔
خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ ہسپتال میں لیول تھری اور لیول فور کے کینسر مریضوں کا علاج مکمل طور پر مفت کیا جائے گا۔منصوبے میں ریڈی ایشن تھراپی، کیموتھراپی، اینڈوسکوپی، آئی سی یو، آپریشن تھیٹرز اور ایمرجنسی وارڈز جیسی جدید سہولتیں شامل ہیں۔مزید برآں، بون میرو سینٹر، کینسر کیئر کلینک، ڈاکٹرز کی رہائش گاہیں، تیمارداروں کے لیے قیام گاہ، مسجد اور پارکنگ پلازہ بھی تعمیر کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ “نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کینسر ٹریٹمنٹ اینڈ ریسرچ پورے پاکستان کا منصوبہ ہے، جہاں پنجاب سمیت دیگر صوبوں کے مریضوں کا بھی مفت علاج کیا جائے گا۔”وزیر صحت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ “کینسر کے علاج سے کسی مریض کو محروم نہیں رکھا جائے گا۔”
چیئرمین بورڈ کیپٹن (ر) زاہد سعید نے بتایا کہ منصوبے کے پہلے مرحلے کی تکمیل کے لیے ہدف مقرر کر دیا گیا ہے اور پیش رفت کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ منصوبہ مقررہ وقت پر فنکشنل کیا جا سکے۔











