ایک جان بچانا پوری انسانیت کو بچانے کے برابر ہے،ہمارے ریسکیورز روزانہ کئی جانیں بچاتے ہیں،وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال

14

لاہور،20اکتوبر  (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ ایک جان کو بچانا پوری انسانیت کو بچانے کے برابر ہے ، ہمارے ریسکیورز روزانہ کئی جانیں بچا کر دراصل انسانیت کو بچاتے ہیں۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار پیر  کو ٹھوکر نیاز بیگ میں ایمرجنسی سروسز اکیڈمی میں منعقدہ نیشنل ریسکیو چیلنج2025  سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ2008  میں جب ان پر قاتلانہ حملہ ہوا تو ریسکیو 1122 کے اہلکاروں نے انہیں بروقت ہسپتال پہنچایا۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں سیلاب نارووال سے شروع ہوا اور ریسکیو کے جوانوں نے ہزاروں افراد کو بروقت نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ نیشنل ریسکیو چیلنج میں خواتین کی زیادہ شمولیت دیکھنا چاہتے ہیں۔ جتنی زیادہ خواتین ریسکیو سروس کا حصہ بنیں گی،خواتین کو ریسکیو کرنے میں اتنی ہی آسانی ہوگی کیونکہ خواتین اب کسی بھی میدان میں مردوں سے کم نہیں۔انہوں نے بتایا کہ 1998 میں جب وزیراعظم محمد  نواز شریف نے ایٹمی دھماکے کئے تو ڈاکٹر عبدالقدیر خان ایک اہم منصوبے کے سلسلہ  میں ان کے پاس آئے۔میں نے ان سے پوچھا کہ جب ہم نے ایٹمی طاقت حاصل کی تو کوئی ملک ہمارے ساتھ نہیں تھا،کسی نے امداد نہیں دی،پھر آپ نے یہ کامیابی کیسے حاصل کی؟ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے جو کامیابی کا فارمولہ بتایا، وہی فارمولا مجھے ریسکیو ادارے میں نظر آتا ہے کہ ادارے کا ہر فرد  چاہے وہ سکیورٹی گارڈ ہو یا ڈرائیور، اپنے آپ کو ایک مشن کا حصہ سمجھتا تھا۔

وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ ریسکیو 1122 کی کامیابی میں ڈاکٹر رضوان نصیر جیسی باصلاحیت قیادت کی خدمات قابلِ تحسین ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ جب موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالا  تو معیشت تباہ حال تھی اور لوگ کہہ رہے تھے کہ پاکستان دیوالیہ ہونے والا ہے،لیکن وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں ہم نے نہ صرف معیشت کو دیوالیہ ہونے سے بچایا بلکہ صرف دو سال میں اسے ترقی کی پٹڑی پر ڈال دیا،جو ایک مثالی کامیابی ہے۔وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ معرکہ حق کے بعد معرکہ ترقی کیلئے سب کو ملکر کردار ادا کرنا ہوگا۔آج پوری دنیا میں پاکستان کی معیشت کی بحالی کے چرچے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مسلح افواج  نے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا،وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیرکی بہترین حکمت عملی سے معرکہ حق میں عظیم فتح ملی۔احسن اقبال نے کہا کہ ہمیں اپنے شہدا پرفخر ہے،مسلح افواج نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دیں ۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ نوجوانوں کی فلاح و بہبود کیلئے کوشاں ہیں،ملک انتہا پسندی اور فساد کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مسلح افواج کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ قوم کو اپنے شہدا پر فخر ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ حکومت وزیراعظم کی قیادت میں معاشی ترقی اور خوشحالی کیلئے بھرپور کوششیں کر رہی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اڑان پاکستان کا وژن نوجوانوں کو تعلیم اور روزگار کے بھرپور مواقع فراہم کرنا ہے تاکہ ملکی ترقی میں نوجوانوں کا کردار مزید موثر بنایا جا سکے۔پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ نیشنل ریسکیو چیلنج 2025  جیسے مقابلے پاکستان کی ایمرجنسی سروسز کے درمیان پیشہ ورانہ مہارت،نظم و ضبط اور عملی ہم آہنگی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں،نیشنل ریسکیو چیلنج کے دوران پاکستان کی سر فہرست  ریسکیو ٹیمیں اپنی کارکردگی،مہارت اور ٹیم ورک کے ذریعے ایمرجنسی حالات سے نمٹنے کی صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس چیلنج میں پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان سمیت ملک کے مختلف حصوں سے15 قومی ٹیمیوں نے حصہ لیا جنہوں نے سنسنی خیز اور منفرد لائیو ریسکیو آپریشنز پیش کیا، جن میں حادثات، آگ بجھانے،بلندی پر  اور گہرے پانی میں امدادی کارروائیوں جیسے مقابلے شامل ہیں۔پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ ایسے مقابلے نہ صرف ریسکیو عملے کی تکنیکی مہارتوں میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ مختلف صوبوں اور اداروں کے درمیان تعاون اور تجربات کے تبادلے کو بھی فروغ دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کی ترقی کا انحصار اس کے انسانی سرمائے کے تحفظ اور بحرانوں کے موثر انتظام پر ہوتا ہے اور پاکستان میں ریسکیو 1122 اس حوالے سے ایک قومی اثاثہ بن چکا ہے۔انہوں نے  کہا کہ وہ ریسکیو 1122 کے بانی اور ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر رضوان نصیر اور ان کی ٹیم کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس ادارے نے جدید تربیت، جدید آلات اور فوری رسپانس کلچر کے ذریعے عوامی اعتماد حاصل کیا ہے۔پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کو محفوظ،پائیدار اور ترقی یافتہ ملک بنانے کے لیے ہمیں اپنے اداروں میں کارکردگی،پیشہ ورانہ مہارت اور عوامی خدمت کا جذبہ مضبوط بنانا ہوگا۔ایمرجنسی سروسز کی یہ کوششیں اسی مقصد کے حصول کی سمت ایک اہم قدم ہیں۔ وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ نیشنل ریسکیو چیلنج 2025  جیسے مقابلے نہ صرف ملک بھر کی ایمرجنسی سروسز کے درمیان پیشہ ورانہ مہارت، نظم و ضبط اور ٹیم ورک کو فروغ دیتے ہیں بلکہ عوامی سطح پر ریسکیو خدمات پر اعتماد کو بھی مضبوط بناتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جدید تربیت یافتہ اور تکنیکی طور پر مضبوط ریسکیو ٹیمیں کسی بھی قوم کے لیے اثاثہ ہوتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزارتِ منصوبہ بندی تمام اداروں میں کارکردگی اور نتائج پر مبنی کلچر کے فروغ کے لیے پرعزم ہے تاکہ پاکستان کو ایک محفوظ اور پائیدار ترقی کی راہ پر ڈالا جا سکے۔اس موقع پر صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق،ڈی جی ریسکیو ڈاکٹر رضوان نصیر سمیت دیگر بھی موجود تھے۔