لاہور،28اکتوبر (اے پی پی):چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان نے کہا ہے کہ عاصمہ جہانگیر سے میرا احترام اور خلوص کا رشتہ رہا، قانون کی بالادستی کے لیے انڈیپینڈنٹ گروپ نے ہمیشہ موثر کردار ادا کیا۔ پنجاب بار کونسل کے انتخابات یہ طے کریں گے کہ وکلا قانون کی حکمرانی اور رول آف لا کے ساتھ کھڑے ہیں۔وہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نو منتخب صدر میاں ہارون الرشید و دیگر عہدے داروں کے اعزاز میں دئیے گئے عشائیہ سے خطاب کر رہے تھے ۔اس موقع معروف وکلا رہنما پیر کلیم خورشید، زاہد اسلم اعوان، ملک منصف اعوان، رانا اسد خاں، سید منظور علی گیلانی اور پیر مسعود چشتی سمیت دیگر وکلا رہنما موجود تھے ۔ وکلا سے خطاب کرتے ہوئے رانا مشہود احمد خان نے کہا کہ پاکستان آگے بڑھ رہا ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ وکلا برادری کے لیے بھی آنے والا ہر دن بہتری لے کر آرہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری محض ایک مختصر کال پر پنجاب بھر خصوصا لاہور سے بڑی تعداد میں وکلا دوست شریک ہوئے، جس پر ہم ان سب کے شکر گزار ہیں۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی ہم انڈیپینڈنٹ گروپ کے ساتھ کھڑے تھے اور آئندہ بھی اسی قیادت کے ساتھ وکلا برادری کے حقوق کے لیے ڈلیور کریں گے۔ انھوں نے لائرز فورم کے رہنماؤں رانا ظفر، رفاقت ڈوگر اور دیگر عہدیداران کا خصوصی طور پر ذکر کرتے ہوئے ان کی شرکت پر شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ 31 اکتوبر کے بعد پنجاب میں وکلا قیادت کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ ہم صرف آئین و قانون کی بات نہیں کرتے بلکہ اس پر پہرہ بھی دیتے ہیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن ہارون الرشید نے کہا کہ ہماری گروپ کی یہ کامیابی احسن بھون کی قیادت میں ممکن ہوئی، وہ ہمارے قائد ہیں اور ہم ان کی رہنمائی میں قانون کی بالادستی کے لیے کام جاری رکھیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ملکی حالات کے تناظر میں 26ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے پارلیمنٹ کو قانون سازی کا اختیار حاصل ہے، ہمارا کام صرف اس ترمیم کو درست یا غلط قرار دینا ہو سکتا ہے، قانون سازی پارلیمنٹ کا حق ہے۔ہارون الرشید نے کہا کہ الیکشن ہمیشہ حقائق اور دیانتداری سے جیتے جاتے ہیں، ہم نے جمہوریت، عدلیہ کی آزادی اور رول آف لا کے لیے ہمیشہ جدوجہد کی ہے۔ انہوں نے 2007کی وکلا تحریک کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کی بحالی کے ثمرات مکمل طور پر عوام تک نہیں پہنچے، اس دور میں عدلیہ کی خودمختاری متاثر ہوئی ا ور کہا کہ آئندہ عدالتی نظام میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانے کے لیے ججوں کی تعیناتی باہمی اتفاقِ رائے سے ہونی چاہیے۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہی افراد عہدوں پر فائز ہوں جنہوں نے پیشہ وارانہ صلاحیتوں کے ذریعے نام کمایا ہو تاکہ اداروں پر کسی قسم کا سوال نہ اٹھے۔ہارون الرشید نے کہا کہ ان کی قیادت وکلا کی فلاح و بہبود کے لیے جامع منصوبے بنا رہی ہے۔ انھوں نے اعلان کیا کہ سپریم کورٹ کے وکلا کی صحت کے لیے ایک فلاحی پروگرام شروع کیا جائے گا، جس کے تحت کسی بھی وکیل کو بیماری کی صورت میں کم از کم تین لاکھ روپے فوری امداد دی جائے گی جبکہ سرکاری اسپتالوں میں مفت علاج کیلئے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔تقریب سے وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل طاہر نصراللہ وڑائچ نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ وکلا نے ریکارڈ ووٹوں سے گروپ کو کامیاب بنایا اور یہ کریڈٹ وکلا کمیونٹی کو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری ٹیم نے ہمیشہ خواتین وکلا کو نمائندگی دی اور ہر سال کابینہ میں دو سے تین خواتین کو شامل کیا جاتا ہے۔طاہر نصراللہ وڑائچ نے کہا کہ گروپ کی کامیابی ٹیم ورک اور وکلا کے اعتماد کا نتیجہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ مستقبل میں وکلا کی فلاحی اسکیموں کو مزید وسعت دی جائے گی اور بار کمیونٹی کے لیے رہائشی منصوبوں پر کام تیز کیا جائے گا۔تقریب سے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر احسن بھون نے بھی خطاب کیا۔ انھوں نے کہا کہ آج کے انڈیپینڈنٹ گروپ کے میزبانوں رانا مشہود احمد خان اور رانا عبداللہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے گزشتہ پانچ برسوں سے گروپ کو مضبوطی سے منظم اور فعال رکھا۔ احسن بھون نے کہا کہ انڈیپینڈنٹ گروپ نے ہمیشہ وکلا کی عزت، خودمختاری اور جمہوریت کے تسلسل کے لیے کردار ادا کیا ہے۔تقریب میں مختلف بار ایسوسی ایشنز کے نمائندوں نے بھی شرکت کی اور نو منتخب عہدیداران کو مبارک باد دی۔مقررین نے عزم ظاہر کیا کہ وکلا برادری کی یکجہتی، عدلیہ کی خودمختاری، جمہوریت کے استحکام اور قانون کی بالادستی کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔











