کوئٹہ، 28 اکتوبر (اے پی پی):بلوچستان حکومت نے صوبے میں اقلیتوں کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے “پیپلز مینارٹی کارڈ” کے اجراء کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حوالے سے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت منگل کے روز وزیر اعلی ہاؤس میں ایک مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس میں اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لیے مختلف اقدامات پر تفصیلی غور کیا گیا۔وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پروگرام کے مؤثر نفاذ کے لیے رواں مالی سال “مینارٹی انڈومنٹ فنڈ” کے لیے 50 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ آئندہ مالی سال اس فنڈ کا بجٹ ایک ارب روپے تک بڑھایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ “پیپلز مینارٹی کارڈ” کے ذریعے اقلیتی برادری کو صحت، تعلیم، روزگار اور کاروبار میں سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ اور ان کی بہبود حکومت بلوچستان کی اولین ترجیح ہے۔وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ پروگرام کے تحت اقلیتی برادری کے لیے مختلف معاونتی منصوبے شروع کیے جائیں گے جبکہ فنڈ کے شفاف اور مؤثر استعمال کو یقینی بنانے کے لیے جدید ڈیجیٹل مانیٹرنگ نظام متعارف کرایا جائے گا۔میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ اقلیتی رہنماؤں کی مشاورت سے “پیپلز مینارٹی کارڈ” پروگرام کی تفصیلات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ یہ اقدام بلوچستان میں سماجی مساوات اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کا عملی مظہر ثابت ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کی ترقی اور خوشحالی سے صوبے کی مجموعی سماجی ہم آہنگی مزید مستحکم ہوگی۔مشاورتی اجلاس میں پارلیمانی سیکرٹری برائے اقلیتی امور سنجے کمار، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، پرنسپل سیکرٹری بابر خان سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی۔











