اقوامِ متحدہ، 31 اکتوبر (اے پی پی):پاکستان نے آج اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ بے عملی ترک کرے اور مجرموں کو استثنا دینے کے رویّے کا خاتمہ کرے۔ پاکستان نے خبردار کیا کہ مظالم پر خاموشی، دراصل شریکِ جرم ہونے کے مترادف ہے۔
سوڈان کی صورتحال پر سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے اقوامِ متحدہ میں مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے فوری اور مؤثر بین الاقوامی اقدام کی ضرورت پر زور دیا تاکہ بڑھتی ہوئی پرتشدد کارروائیوں کو روکا جا سکے اور انسانی المیے کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
انہوں نے سوڈان کے المیے کو “بین الاقوامی برادری کے لیے ایک اخلاقی اور سیاسی آزمائش” قرار دیتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا کہ متعدد انتباہات کے باوجود سلامتی کونسل ظلم و ستم کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ یہ کونسل ایک غیر مبہم پیغام دے، کہ وہ شہریوں کے قتلِ عام، اسپتالوں پر بمباری، اور انسانی کارکنوں کو نشانہ بنانے جیسے مظالم پر خاموش تماشائی نہیں رہے گی۔
سفیر عاصم نے ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) کی جانب سے الفاشر پر قبضے اور ان کی دہشت گردانہ مہم کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ اسپتالوں اور انسانی کارکنوں پر دانستہ حملے بین الاقوامی انسانی اور انسانی حقوق کے قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے سعودی زچگی اسپتال میں مریضوں اور طبی عملے کے قتلِ عام کو “ناقابلِ بیان ظلم” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بہیمانہ اقدامات فوراً بند ہونے چاہییں اور ان کے مرتکب اور معاونین کو مکمل طور پر جواب دہ ٹھہرایا جائے۔











