کوئٹہ، 27 نومبر (اے پی پی):صوبائی وزرا ء بخت محمد کاکڑ اور راحیلہ حمید درانی نے کہاہے کہ صوبائی حکومت آن لائن ہراسمنٹ روکنے، سیکیورٹی میکانزم مضبوط بنانے، سائبر کرائم آگاہی مہمات شروع کرنے اور خواتین کو محفوظ ڈیجیٹل ماحول فراہم کرنے کے لیے جامع پالیسی پر عمل کر رہی ہے، جدید قانون سازی، اداروں کی استعداد کار میں اضافہ اور کمیونٹی لیول پر آگاہی پروگرام حکومت کے ترجیحی اقدامات کا حصہ ہیں، جن کا مقصد خواتین کو بااختیار بنانا اور ڈیجیٹل اسپیس کو محفوظ بنانا ہے۔وہ جمعرات کو کوئٹہ میں حکومت بلوچستان اور اقوام متحدہ کے ذیلی داروں کے زیرِ اہتمام جینڈربیسڈ وائلنس کے خلاف 16روزہ ایکٹویزم مہم کے حوالے سے ”خواتین سروس پرووائیڈرز کے کردار اور ڈیجیٹل ہراسمنٹ کے بڑھتے خدشات” کے عنوان سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے کررہے تھے ۔ اقوام متحدہ پاکستان، یو این ایف پی اے، یونیسیف اور یو این ایچ سی آر کے تعاون سے منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ تقریب میں ارکان بلوچستان اسمبلی کلثوم نیاز بلوچ،سلمی کاکڑ،یو این ویمن کی ڈپٹی نمائندہ جیکی کیتونتی،یو این ڈی پی بلوچستان کے ذوالفقار درانی،یو این ایف پی اے کی صوبائی سربراہ سعدیہ عطا،یو این ویمن بلوچستان کی عائشہ ودود،ایواجی الائنس کے چیئرمین وعورت فاؤنڈیشن کے ریجنل ڈائریکٹر علاؤالدین خلجی سمیت دیگر شخصیات نے شرکت کی۔یو این ویمن کی ڈپٹی نمائندہ جیکی کیتونتی نے شرکا کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ آن لائن دنیا میں خواتین کا تحفظ انتہائی اہم ہے کیونکہ خواتین معاشرے کی ترقی اور خوشحالی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل تشدد کے خلاف جدوجہد وقت کی ضرورت ہے۔ ہر عورت اور بچی کو ڈیجیٹل سیکیورٹی سکلز سیکھنے کی ضرورت ہے تاکہ ٹیکنالوجی انہیں نقصان پہنچانے کے بجائے بااختیار بنانے کا ذریعہ بنے۔ڈیجیٹل سیفٹی اب ثانوی معاملہ نہیں رہی یہ خواتین کے بنیادی حقوق اور آزادیوں کا حصہ ہے۔ تکنیکی ترقی کے ساتھ ضروری ہے کہ پرائیویسی، برابری اور احترام کے اصولوں پر مبنی ڈیجیٹل دنیا تشکیل دی جائے۔ٹیسفائے بیکلی، سربراہ دفتر یو این ایچ سی آر بلوچستان نے کہا کہ کنیکٹیویٹی کے بڑھنے کے ساتھ ڈیجیٹل وائلنس بھی تیزی سے بڑھا ہے جو خواتین کی روزمرہ زندگی، مواقع اور تحفظ کے احساس کو متاثر کرتا ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑنے کہا کہ بلوچستان حکومت خواتین کی امپاورمنٹ کیلئے سنجیدہ اور پرعزم ہے۔انہوں نے کہاکہ “خواتین کو برابر مواقع فراہم کیے بغیر ہمارا معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔ ڈیجیٹل وائلنس ایک سنگین خطرہ ہے، جس کے خاتمے کیلئے حکومت تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صوبائی حکومت نے حال ہی میں ،بچیوں کی کم عمری کی شادی کی ممانعت کا قانون پاس کر کے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔وزیر صحت بلوچستان بخت محمد کاکڑنے حکومت کی جانب سے شعور و آگاہی، رپورٹنگ میکانزم کی بہتری، کمیونٹی پروگرامز اور ڈیجیٹل سیفٹی مہمات کو مضبوط بنانے کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کی محفوظ شمولیت کے بغیر معاشرہ مکمل ترقی نہیں کر سکتا۔صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید درانی نے کہا کہ ڈیجیٹل وائلنس اور ہراسمنٹ ایک حقیقت ہے جس کا مقابلہ مضبوط قانون سازی اور عملدرآمد کے ذریعے ہی ممکن ہے۔تشدد کی شکل بدل چکی ہے، ہمارے اداروں کو بھی نئے تقاضوں کے مطابق بہتر بنانا ہوگا۔ ڈیجیٹل وائلنس حقیقی تشدد ہے، اور حکومت بلوچستان خواتین کو محفوظ ڈیجیٹل ماحول کی فراہمی کے لیے قوانین اور نفاذ دونوں کو مضبوط بنا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ”الزامات لگانا آسان لیکن ثابت کرنا مشکل ہوتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ متاثرین کو قانونی معاونت، آگاہی اور تحفظ فراہم کیا جائے۔”تقریب میں ڈیجیٹل وائلنس کے خاتمے کے موضوع پر پینل ڈسکشن کا انعقاد بھی کیا گیا۔ پینل میں صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید درانی، یو این ویمن کی عائشہ ودود، علاالدین خلجی، ایس ایس پی اسپیشل برانچ شہلا قریشی، یو این ایف پی اے کی سعدیہ عطاء اور ایف آئی اے کی سب انسپکٹر حلیمہ شامل تھیں۔اس دوران مقررین نے آن لائن ہراسمنٹ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کے تحفظ کیلئے بنائے گئے قوانین پر مثر عملدرآمد ناگزیر ہے۔ہراسمنٹ کیسز کے درست اعدادوشمار جمع کرنا ضروری ہے۔تعلیمی اداروں میں آگاہی پروگراموں کے ذریعے طالبات کو رپورٹنگ کے طریقہ کار سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔ 2025 کے دوران پولیس اور سائبر کرائم سیل کو 3200 کیسزموصول ہوئے، لیکن عدالت تک پہنچتے پہنچتے صرف 8فیصدرہ جاتے ہیں۔ڈیجیٹل ہراسمنٹ کے حوالے سے بلوچستان میں مخصوص قانون نہ ہونے کی وجہ سے چیلنج مزید بڑھ جاتے ہیں۔اس موقع پر مقررین نے کہا کہ ٹیکنالوجی ایک طاقتور ہتھیار ہے، مگر غلط ہاتھوں میں یہ ہراسمنٹ کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔ اس لیے وقت کی ضرورت ہے کہ ایک مربوط نظام کے تحت ڈیجیٹل تحفظ، آگاہی اور قانون سازی کو مزید بہتر بنایا جائے۔تقریب کے اختتام پر ڈیجیٹل کمٹمنٹ وال پر شرکا نے خواتین کے لیے محفوظ آن لائن اسپیس کے عزم کا اظہار کیا جبکہ اورنج اسکائی مومنٹ کے دوران مقامی نوجوانوں نے ڈرم سرکل کی قیادت کی اور “عورت پر تشدد کا کوئی جواز نہیں” کے نعرے لگائے۔اقوام متحدہ کے ذیلی داروں کے زیراہتمام یہ اہم ایونٹ ملک بھر میں جاری اقوام متحدہ کی 16 روزہ مہم کا حصہ ہے، جو لاہور، پشاور، اسلام آباد اور کراچی سمیت مختلف شہروں میں آگاہی اور کارروائیوں کے ساتھ جاری ہے۔











