اسلام آباد ،28 نومبر(اے پی پی ): وزیراعظم شہباز شریف کے وژن کے تحت پاکستان سے ملائیشیا کو گوشت برآمد کرنے کے منصوبے کو حتمی شکل دینے کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت وزیراعظم کے معاونِ خصوصی ہارون اختر خان، وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین اور وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے مشترکہ طور پر کی۔
اجلاس میں وزارت تجارت، وزارتِ قومی غذائی تحفظ، سرکاری و نجی شعبے کے نمائندوں، اسٹیک ہولڈرز اور کنسلٹنٹس نے شرکت کی۔ کمیٹی کے اجلاس میں ملائیشیا کو گوشت برآمدات کے حتمی بزنس پلان کی تفصیلی پریزنٹیشن پیش کی گئی اور اس پر اتفاقِ رائے سے منظوری دی گئی۔
معاونِ خصوصی ہارون اختر خان نے کہا کہ گوشت کی برآمدات کے لیے مکمل بزنس ماڈل تیار کر لیا گیا ہے اور وزارتوں و کمیٹی کے تمام اراکین نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے وژن کے مطابق آئندہ چند برسوں میں گوشت کی برآمدات کو نمایاں سطح تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا کہ یہ پیکج تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ برآمدی لاگت میں کمی اور سہولیات کے لیے بینکنگ سیکٹر، صوبائی و وفاقی حکومتوں اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا کردار نہایت اہم ہوگا۔
کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ پاکستان اس وقت ملائیشیا کو محدود مالیت میں بھینس کا گوشت برآمد کر رہا ہے، تاہم فوٹ اینڈ ماؤتھ جیسی بیماریاں، پراسیسنگ اور لاجسٹکس کے مسائل برآمدات میں بڑی رکاوٹ ہیں، جن کے حل کے لیے جامع حکمتِ عملی ترتیب دی جا رہی ہے۔
وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے بتایا کہ ملائیشیا کے معیار کے مطابق جدید سلاٹر ہاؤسز قائم کیے جائیں گے تاکہ عالمی معیار کی حلال گوشت کی برآمدات ممکن بنائی جا سکیں۔
ہارون اختر خان نے کہا کہ حلال گوشت کے شعبے کو صنعت کا درجہ دیا جائے گا، جس سے برآمدات میں اضافہ اور ملکی معیشت مضبوط ہوگی۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ برآمدی ہدف کے حصول کے لیے ہر شعبے اور ہر اسٹیک ہولڈر کو واضح ٹائم لائن کے ساتھ ذمہ داریاں سونپی جائیں گی اور تمام اقدامات کی مسلسل نگرانی کی جائے گی تاکہ پاکستانی حلال بیف عالمی منڈی میں مؤثر انداز سے متعارف ہو سکے۔











