اسلام آباد ،01 دسمبر(اے پی پی): سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں رکنِ قومی اسمبلی بیرسٹر گوہر علی خان کی تقریر پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ تمام اراکینِ پارلیمنٹ بخوبی جانتے ہیں کہ میرے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں۔ میں جتنی کوشش کرتا ہوں، وہ سب کے سامنے ہے اور کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم، وزیرِ قانون اور میں متعدد بار واضح کر چکے ہیں کہ معاملات مذاکرات سے ہی حل ہوں گے، محاذ آرائی سے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ مجھ سے پیار اور احترام سے بات کریں، مجھے کوئی مسئلہ نہیں۔ میں اپنی آئینی و پارلیمانی ذمہ داری پوری کر رہا ہوں۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ اگر کوئی یہ کہے کہ ہم عوام کو پارلیمنٹ پر حملہ کرنے کے لیے لے کر آئیں گے، تو وہ کر کے دیکھ لے، مگر اس لب و لہجے کو میں کسی صورت قبول نہیں کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمان عوام کا گھر ہے اور اس کے وقار کا ہر حال میں تحفظ کیا جائے گا۔سردار ایاز صادق نے مزید کہا کہ میں نے اس روز آپ کے قائد کو مذاکرات کی پیشکش کی، مگر انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور افغانستان سے بات کریں، آپ سے بات نہیں کرنی۔ اس کے باوجود میں نے آپ کو مائیک دیا، آپ نے خود کہا کہ ہم بات کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے آپ کو اپنے چیمبر مدعو کیا، کیا میرا کردار منفی تھا میں نے تو حکومت کو بھی آپ کے سامنے بٹھایا تاکہ بات چیت کا تسلسل قائم رہے۔انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ سیاسی مکالمے کا گھر ہے جہاں ہر اختلاف قانون و آئین کے اندر رہتے ہوئے حل ہوتا ہے۔











