اسلام آبا،10دسمبر ) اے پی پی): قومی اسمبلی کا اجلاس پینل آف چیئرپرسن/رکن قومی اسمبلی علی زاہد کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاوس میں منعقد ہوا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ سٹنٹنگ کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے گزشتہ پانچ برسوں کے دوران ملک بھر میں تین اعشاریہ نو ملین مستفیدین کا اندراج “ناشونوما پروگرام” میں کیا گیا ہے۔غربت کے خاتمے اور سماجی تحفظ کے وزیر سید عمران احمد شاہ نے وقفہ سوالات کے دوران ایوان کو بتایا کہ ان میں 20 لاکھ بچے اور ایک اعشاریہ آٹھ ملین حاملہ خواتین شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کا اسٹنٹنگ میں کمی پر بہت زیادہ اثر پڑتا ہے۔
ایک تحقیق کے مطابق دو سال سے کم عمر کے بچوں کے اسٹنٹنگ میں چھ اعشاریہ چار فیصد اور چھ ماہ سے کم عمر کے بچوں میں اسٹنٹنگ میں بیس فیصد کی زبردست کمی آئی ہے۔غربت کے خاتمے کے وزیر نے کہا کہ نیوٹریشن سپورٹ پروگرام ملک کے ایک سو ستاون اضلاع میں پانچ سو بیالیس سہولتی مراکز کے ذریعے کام کر رہا ہے۔
وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی شیزرا منصب علی خان کھرل نے ایوان کو بتایا کہ موسمیاتی ایکشن کے لیے شارٹ ٹرم پلان تشکیل دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چودہ اہم مداخلتیں، جو دو سو چالیس دن کی ٹائم لائن پر لاگو کی جائیں گی، اگلے سال کے مون سون کے موسم سے پہلے لچک کو بڑھا دیں گی۔
شیزرا منصب علی نے کہا کہ مداخلتوں میں ترجیحی سیلاب کے شکار اضلاع میں مون سون تالابوں کی ڈیزائننگ اور پائلٹنگ، سیلاب کی پیش گوئی اور وارننگ سسٹم کو اپگریڈ کرنا، ہنگامی لاجسٹکس سسٹم کا قیام اور سیلاب کنٹرول، پانی کے انتظام اور موسمیاتی موافقت کو صوبائی منصوبوں میں شامل کرنا شامل ہے۔قومی اسمبلی کا اجلاس اب غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کر دیا گیا ہے۔











