لودھراں،10 دسمبر(اے پی پی ): پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آرڈیننس کے تحت شہریوں کی جائیدادوں کا تحفظ یقینی بنانے اور قبضہ مافیا کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عملدرآمد جاری ہے۔
ضلع لودھراں میں قبضہ مافیا سے واگزار کرائی گئی جائیدادیں اصل مالکان کے حوالے کی جارہی ہیں۔ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹی کا اہم اجلاس کمیٹی روم میں منعقد ہوا، جس میں شہریوں کی جائیدادوں پر قبضہ سے متعلق درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران متنازع جائیدادوں کے کیسز کی سماعت کی گئی اور ان پر میرٹ کی بنیاد پر فیصلے سنائے گئے۔اجلاس کی صدارت ڈپٹی کمشنر محمد اشرف اور ڈی پی او علی بن طارق نے کی۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو سید وسیم حسن شاہ، اسسٹنٹ کمشنرز اور ڈی ایس پیز بھی موجود تھے۔
فریقین کے مؤقف سننے کے بعد حقداروں کو فوری قبضہ واپس دلانے کے احکامات جاری کیے گئے۔
ڈپٹی کمشنر محمد اشرف نے کہا کہ خواتین کی جائیدادوں سے متعلق کیسز کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جا رہا ہے اور بااثر قبضہ مافیا کو کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کی جائیدادوں کا تحفظ حکومت پنجاب کی اولین ترجیح ہے اور شفافیت کے ساتھ ریونیو ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے بعد حقداروں کو ان کا حق واپس دلایا جا رہا ہے۔
ڈی پی او علی بن طارق نے کہا کہ تحفظ ملکیت آرڈیننس عوام کے لیے براہ راست ریلیف کا باعث بن رہا ہے۔ ناجائز قبضوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن جاری ہے اور کارِ سرکار میں مداخلت کرنے والوں کو جرمانے اور قید کی سزائیں بھی دی جائیں گی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ اب تک موصول ہونے والی 100 درخواستوں میں سے 85 درخواستوں کے فیصلے کیے جا چکے ہیں۔











