ہریپور،15 دسمبر(اے پی پی ): انسپکٹر جنرل آف پریزن خیبر پختونخوا محمد عثمان محسود نےسنٹرل جیل ہری پور کے دورے کے موقع پر کہا ہے کہ صوبے کی جیلوں کو محض سزا کی جگہ نہیں بلکہ اصلاح،تربیت اور بحالی کے مراکز بنایا جا رہا ہے تاکہ قیدی رہائی کے بعد معاشرے کے مفید اور ذمہ دار شہری بن سکیں،قیدیوں کی فلاح و بہبود،ذہنی و جسمانی صحت،تعلیم اور فنی تربیت کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
سنٹرل جیل پہنچنے پر چاق و چوبند دستے نے انہیں سلامی پیش کی جبکہ سپرنٹنڈنٹ جیل محمد حامد اعظم نے آئی جی جیل خانہ جات کو جیل کی مجموعی صورتحال،سیکیورٹی انتظامات،قیدیوں کی فلاح و بہبود کے لیے کیے گئے اقدامات،طبی سہولیات،تعلیمی اور اصلاحی پروگرامز کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔
آئی جی جیل خانہ جات نے فراہم کردہ سہولیات اور انتظامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی،دورے کے دوران انسپکٹر جنرل آف پریزن نے جیل میں قائم نئے سکیننگ روم،جیل ہسپتال اور منشیات سے بحالی مرکز کی نئی بیرک کا افتتاح بھی کیا،انہوں نے جیل کے مختلف حصوں منشیات سے بحالی مرکز،جوینائل سیکشن اور دیگر بیرکس کا بھی معائنہ کیا۔
اس موقع پر انہوں نے قیدیوں سے ملاقات کر کے ان کے مسائل سنے اور متعلقہ افسران کو قیدیوں کو درپیش مسائل کے فوری حل کے لیے ہدایات جاری کیں۔آئی جی جیل خانہ جات محمد عثمان محسود نے کہا کہ قیدیوں کی ذہنی اور جسمانی صحت کا خاص خیال رکھا جا رہا ہے اور جیلوں میں طبی سہولیات کو مزید بہتر بنایا گیا ہے،انہوں نے بتایا کہ صوبے کی تمام جیلوں میں تعلیمی،فنی تربیتی اور اصلاحی پروگرامز جاری ہیں تاکہ قیدی رہائی کے بعد باعزت روزگار حاصل کر سکیں اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ قیدیوں کی کردار سازی کے لیے جیلوں میں مذہبی اور اخلاقی تربیت فراہم کرنے کے لیے علماء کرام اور ماہرین کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں،اس کے علاوہ قیدیوں کے اہل خانہ سے رابطے کے لیے ای ملاقات کا نظام متعارف کرایا گیا ہے جس کے ذریعے قیدی اندرون و بیرون ملک اپنے عزیز و اقارب سے ای ملاقات کر سکتے ہیں۔











