کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کی 45ویں سالانہ انٹرنیشنل سائنٹیفک کانفرنس کے اختتامی ڈنر گالا کا انعقاد

12

لاہور، 21 دسمبر (اے پی پی): کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کی 45ویں سالانہ انٹرنیشنل سائنٹیفک کانفرنس کے سلسلے میں اختتامی ڈنر گالا کا انعقاد کیا گیا، جس میں صوبائی وزیر اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑا نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ وائس چانسلر کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمود ایاز نے صوبائی وزیر کا پرتپاک استقبال کیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سردار رمیش سنگھ اروڑا نے کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر یونیورسٹی انتظامیہ، منتظمین اور فیکلٹی کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں بین المذاہب ہم آہنگی کے ماحول کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے ادارے معاشرے میں رواداری، برداشت اور امن کے فروغ کا باعث بنتے ہیں۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ آج اس تقریب کا حصہ بننا میرے لیے باعثِ اعزاز ہے، ہم سب ایک خاندان کی مانند ہیں۔ کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی اور یہاں زیرِ تعلیم طلبہ ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں، جنہیں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف قومی اثاثہ سمجھتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت پنجاب جدید تعلیم، تحقیق اور نوجوانوں کے روشن مستقبل کے لیے پُرعزم ہے۔

سردار رمیش سنگھ اروڑا نے کہا کہ کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی طبی تعلیم اور تحقیق کا ایک تاریخی اور معتبر ادارہ ہے، جبکہ طلبہ اور نوجوان محققین پاکستان کا روشن مستقبل ہیں، جن پر حکومت بھرپور سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ انہوں نے طلبہ کو نصیحت کی کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ کردار سازی پر بھی خصوصی توجہ دیں کیونکہ یہی ان کی اصل پہچان ہے۔

انہوں نے کہا کہ مذہبی اقلیتوں نے قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک ملک کی تعمیر و ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنی پہلی تقریر میں واضح کیا تھا کہ اقلیتیں ہمارا فخر ہیں، اور حکومت نے اس عزم کو عملی اقدامات سے ثابت بھی کیا ہے۔ پاکستان مختلف مذاہب کے ماننے والوں کا ملک ہے جہاں ہم ایک دوسرے کی خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں اور دنیا کو امن کا پیغام دیتے ہیں۔

صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ آئینِ پاکستان تمام شہریوں کو برابر حقوق کی ضمانت دیتا ہے، اور پاکستان میں اقلیتیں نہ صرف محفوظ ہیں بلکہ اپنی مذہبی رسومات اور تہوار آزادی سے مناتی ہیں۔ انہوں نے طلبہ کو پاکستان کے سفیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیرونِ ملک جا کر وہ ملک کا مثبت چہرہ دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔

تقریب کے اختتام پر مہمانوں نے کانفرنس کے انعقاد اور اختتامی ڈنر گالا کو علمی، فکری اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کی ایک خوبصورت مثال قرار دیا۔