واپڈا نے 2025 میں پانی اور پن بجلی کے شعبوں میں زیر تعمیر منصوبوں پر بھی اہم اہداف حاصل کئے

13

اسلام آباد ، 30دسمبر ( اے پی پی):سال 2025 ،پاکستان میں پن بجلی اور پانی کے شعبوں کے لیے تسلی بخش سال رہا۔ 2025 کے دوران واپڈا نے نیشنل گرڈ کو تسلسل کے ساتھ ماحول دوست اور سستی پن بجلی کی بڑی مقدار فراہم کی اور متنوع اور پیچیدہ مسائل کے باوجود اپنے زیر تعمیر منصوبوں پر کئی اہم اہداف بھی حاصل کئے۔

سال 2025 میں واپڈا کے 22 پن بجلی گھروں نے نیشنل گرڈ کو مجموعی طور پر 33 ارب 12 کروڑ یونٹ پن بجلی مہیا کی، جو قومی نظام میں بجلی کی مجموعی پیداوار کا تقریبا 30 فیصد ہے۔ واپڈا پن بجلی کا ٹیرف صرف 3 روپے 83 پیسے فی یونٹ ہے اور یہ سستی پن بجلی پاکستان کے پورے پاور سیکٹر کو سبسیڈائز کرتی ہے۔ اگر واپڈا کی جانب سے نیشنل گرڈ کو فراہم کی جانے والی پن بجلی کا موازنہ پاور سیکٹر کے اوسط ٹیرف سے کیا جائے، تو یہ بات بالکل واضح ہے کہ واپڈا پن بجلی نیشنل گرڈ میں توانائی کا سستا ترین ذریعہ ہے۔ علاوہ ازیں پن بجلی کی پیداوار کے دوران زہریلی اور مضر صحت گیسوں کا اخراج زیرو ہوتا ہے، چنانچہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے پس منظر میں پن بجلی کی اہمیت اور بھی زیادہ ہو جاتی ہے-

سال 2025 میں واپڈا پن بجلی کے اعداد و شمار کے مطابق تربیلا پن بجلی گھر نے نیشنل گرڈ کو 14 ارب 30 کروڑ یونٹ، تربیلا چوتھے توسیعی منصوبے نے 5 ارب 60 کروڑ یونٹ، غازی بروتھا نے 6 ارب 50 کروڑ یونٹ، منگلا نے 3 ارب 60 کروڑ یونٹ، وارسک نے 77 کروڑ یونٹ اور چشمہ پن بجلی گھر نے 79 کروڑ یونٹ پن بجلی فراہم کی، جبکہ تین خواڑ پراجیکٹ، جناح پن بجلی گھر اور واپڈا کے دیگر چھوٹے پن بجلی گھروں نے مجموعی طور پر ایک ارب 56 کروڑ یونٹ بجلی مہیا کی-

 سال 2025 میں دیامر بھاشا ڈیم، مہمند ڈیم، داسو ہائیڈروپاور پراجیکٹ، تربیلا پانچویں توسیعی منصوبے اور کےفور پراجیکٹ سمیت واپڈا کے 8 زیر تعمیر منصوبوں پر تعمیراتی کام تسلی بخش رفتار سے جاری رہا۔ اگست میں مہمند پراجیکٹ نے مین ڈیم کی بھرائی شروع کرنے کا اہم ہدف حاصل کیا۔ جبکہ دیامر بھاشا ڈیم اور داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے مین ڈیمز پر آر سی سی بچھانے کا کام سال 2026 میں شروع ہو جائے گا۔

 یہ بات قابل ذکر ہے کہ واپڈا کے 8 زیر تعمیر منصوبے مکمل ہونے پر ملک میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں 9.7 ملین ایکڑ فٹ اضافہ ہو گا، جبکہ واپڈا پن بجلی کی پیداوار 9 ہزار 500 میگا واٹ سے دوگنا ہو کر تقریبا 20 ہزار میگا واٹ ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ کےفور پراجیکٹ کے پہلے مرحلے کی تکمیل پر کراچی کو روزانہ 26 کروڑ گیلن، جبکہ مہمند ڈیم کی تکمیل پر پشاور کو روزانہ 30 کروڑ گیلن پینے کا پانی بھی میسر آئے گا-