او آئی سی کامسٹیک اور پاتھ فائنڈر سٹاڈل کے اشتراک سے‘‘مصنوعی ذہانت اور مستقبل کی ملازمتیں:آئندہ دہائی میں ڈیجیٹل اقوام’’ کے موضوع پر بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد

11

اسلام آباد، 8جنوری(اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی  کے رکن سینیٹر ڈاکٹر افنان خان نے کہا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں قوموں کی ترقی کا انحصار جدید ٹیکنالوجی پر ہے، اگر مصنوعی ذہانت کو شفاف، جامع اور قومی مفاد کے مطابق بروئے کار لانا ہے تو ڈیٹا کے تحفظ اور جدت دوست قانون سازی کو اولین ترجیح دینا ہوگی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے او آئی سی کامسٹیک اور معروف ٹیکنالوجی ادارے پاتھ فائنڈر سٹاڈل  کے اشتراک سے  ’’مصنوعی ذہانت اور مستقبل کی ملازمتیں:آئندہ دہائی میں ڈیجیٹل اقوام‘‘کے موضوع پر بین الاقوامی کانفرنس  سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔یہ کانفرنس کامسٹیک کے سنٹر فار ٹریننگ ان آرٹیفیشل انٹیلی جنس اینڈ ایمرجنگ ٹیکنالوجیز اور سٹاڈل پروگرام کے تحت منعقد کی گئی جس میں او آئی سی کے رکن اور مبصر ممالک سے پالیسی سازوں، سفارتکاروں، ماہرین تعلیم، صنعت کے نمائندوں، مصنوعی ذہانت کے ماہرین اور نوجوان محققین نے شرکت کی۔کانفرنس کے مہمان خصوصی  سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی  کے رکن سینیٹر ڈاکٹر افنان خان نے کہا کہ مستقبل کی ڈیجیٹل اقوام کی تشکیل میں دور اندیش عوامی پالیسیاں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔انہوں نے جدت دوست ضابطہ جاتی فریم ورک، ڈیٹا کے تحفظ اور قانون سازی کی اہمیت پر زور دیا تاکہ مصنوعی ذہانت کو شفاف، جامع اور قومی ترقی کے لئے مؤثر طور پر بروئے کار لایا جا سکے۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے  کوآرڈینیٹر جنرل او آئی سی کامسٹیک  پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے کہا کہ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹلائزیشن اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز عالمی معیشت، حکمرانی کے نظام اور قومی مسابقت کو تیزی سے تبدیل کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ او آئی سی کے رکن اور مبصر ممالک کے لئے یہ ٹیکنالوجیز ایک تاریخی موقع فراہم کرتی ہیں جس کے ذریعے وہ روایتی ترقی کے مراحل کو مختصر کرتے ہوئے عوامی خدمات کی بہتری، قومی سلامتی کے استحکام اور معاشی لچک میں اضافہ کر سکتے ہیں۔انہوں نے کامسٹیک کی اہم کاوشوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ او آئی سی سطح پر مصنوعی ذہانت کے مشترکہ وژن کی تیاری، اے آئی اور ابھرتی ٹیکنالوجیز کے لئے خصوصی تربیتی و تحقیقی مرکز کا قیام اور مختلف رکن ممالک میں بین الاقوامی ورکشاپس اور تربیتی پروگرامز کا انعقاد ان اقدامات کا حصہ ہے۔

 کو چیئرمین پاتھ فائنڈر گروپ  اکرام سہگل نے کہا کہ بین الاقوامی اداروں، حکومتوں، تعلیمی اداروں اور صنعت کے درمیان تعاون کے بغیر مصنوعی ذہانت کی تحقیق کو عملی شکل دینا اور مستقبل کی ڈیجیٹل معیشت کے لئے افرادی قوت کی تیاری ممکن نہیں۔

پاتھ فائنڈر سٹاڈل کے صدر ایئر وائس مارشل (ر)اسد اکرام نے کہا کہ سٹاڈل ڈیجیٹل مہارتوں کے فروغ، سائبر سکیورٹی کے استحکام اور قومی و علاقائی ڈیجیٹل تبدیلی کے ایجنڈے کی بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ او آئی سی کامسٹیک کے ساتھ سٹریٹجک تعاون او آئی سی ممالک میں ہنر مند انسانی وسائل کی تیاری اور ٹیکنالوجی پر مبنی ترقی کو تیز کرے گا۔

او آئی سی کامسٹیک کے سینئر ایڈوائزر پروفیسر ڈاکٹر شاہد محمود نے مصنوعی ذہانت کے طویل المدتی سٹریٹجک اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تحقیق و ترقی میں مسلسل سرمایہ کاری، شواہد پر مبنی پالیسی سازی اور علاقائی تعاون کے ذریعے ہی ابھرتی ٹیکنالوجیز کو ذمہ دارانہ اور اخلاقی انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

 چیئرمین پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی  ڈاکٹر سہیل منیر نے کہا کہ مستقبل کے لئے تیار ڈیجیٹل ریاستوں کی تشکیل کے لئے مربوط قومی ڈیجیٹل ڈھانچہ، ڈیٹا پر مبنی حکمرانی اور باہم مربوط ڈیجیٹل انفراسٹرکچر ناگزیر ہے۔ انہوں نے ریگولیٹری فریم ورک کو تیزی سے بدلتی ٹیکنالوجی کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

کانفرنس میں سعودی عرب، مصر، مراکش اور پاکستان سے ماہرین نے شرکت کی جبکہ انڈونیشیا، نائیجیریا، ملائیشیا، بنگلہ دیش، آذربائیجان، یمن، سوڈان اور برطانیہ سمیت او آئی سی کے رکن اور مبصر ممالک سے آن لائن شرکت نے مباحثے کو مزید مؤثر اور جامع بنایا۔

کانفرنس کے اختتام پر او آئی سی کامسٹیک اور پاتھ فائنڈر سٹاڈل کے درمیان مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کئے گئے جس کا مقصد مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، ڈیجیٹل مہارتوں کی ترقی، تحقیقی تعاون اور ڈیجیٹل تبدیلی سے متعلق پالیسی سپورٹ کو فروغ دینا ہے۔ اس شراکت داری کے تحت مشترکہ تربیتی پروگرامز، ماہرین کے تبادلے اور باہمی منصوبوں کے ذریعے او آئی سی خطے میں جدت اور ڈیجیٹل تیاری کو مضبوط بنایا جائے گا۔