اقوامِ متحدہ، 09 جنوری (اے پی پی): اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے سلامتی کونسل کے مشرقِ وسطیٰ(شام / کیمیائی ہتھیار) سے متعلق بریفنگ میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کسی بھی شخص کی جانب سے، کسی بھی مقام پر اور کسی بھی صورت میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کیمیائی ہتھیاروں کے کنونشن (CWC) کو عالمی تخفیفِ اسلحہ کے نظام کا ایک بنیادی ستون سمجھتے ہیں۔ پاکستان کنونشن کے مقاصد کے فروغ اور او پی سی ڈبلیو (OPCW) کی مؤثریت اور غیر جانب داری کو برقرار رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ شام کی وحدت،خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی بھرپور حمایت کرتے ہیں، جو پائیدار امن اور استحکام کے لیے ناگزیر ہیں۔ پاکستان ایک جامع، شامیوں کی ملکیت اور شامیوں کی قیادت میں چلنے والے سیاسی عمل کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ اسرائیلی فوجی حملوں نے شام میں او پی سی ڈبلیو (OPCW) کے تکنیکی کام میں بھی رکاوٹ ڈالی ہے۔ دہشت گردی کے خطرات اور غیر ملکی دہشت گرد جنگجوؤں کی موجودگی بھی ملک کی سلامتی کے لیے ایک سنگین چیلنج ہیں اور او پی سی ڈبلیو کی تصدیقی سرگرمیوں کو متاثر کر رہی ہیں۔ سفیر عثمان جدون نے مزید کہا کہ پاکستان شامی حکام کے اس عزم کو مثبت نظر سے دیکھتا ہے کہ وہ کیمیائی ہتھیاروں کے کنونشن (CWC) پر مکمل عملدرآمد کریں، مشتبہ کیمیائی ہتھیاروں کے مقامات کو محفوظ بنائیں اور زیرِ التوا امور کو حل کریں۔ ہم او پی سی ڈبلیو کے تکنیکی سیکرٹریٹ کے ساتھ شامی حکام کے تعاون کو سراہتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ یہ تعاون بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہے گا۔











