لاہور،18جنوری (اے پی پی):وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہاہے کہ حکومت کی کوششوں کے نتیجے میں ملک میں سرمایہ کاری کے لیے موافق ماحول پیدا ہو رہا ہے جس سے نہ صرف مقامی بلکہ غیر ملکی سرمایہ کار بھی فائدہ اٹھا رہے ہیں،ہماری کیش اکانومی آج بھی پورے خطے کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے ،ماضی کی حکومتی پالیسیوں کے نتیجے میں کیش اکانومی میں اضافہ ہوالیکن اب حکومت اس کو ریورس کرنے کی کوشش کررہی ہے،معیشت جب دستاویزی ہوگی تو اس سے ٹیکس میں اضافہ ہوگا، روزگار کے مواقع پیدا اور اس سے حکومتی مالی معاملات بہتر ہوں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو یہاں ایکسپو سینٹر میں منعقدہ 27 ویں آئی ٹی سی این ایشیاء میں”فائر سائیڈ چیٹ آن ٹوکنائزنگ دی سوورین ایسٹس لیکوئڈیٹی ریڈی ”کے عنوان سے منعقدہ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے ڈیجیٹل اکانومی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں کوئی بھی جدت آئے ،حکومت کا کام ہے کہ وہ اس حوالے سے ایسی پالیسیاں مرتب کریں کہ اس جدت سے ملک اور عوام کو فائدہ ہو۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت اسی پالیسی پر عمل پیر ہے، اب تک ہم نے اس حوالے سے جو کچھ کیا ہے اس میں سب سے پہلے ہم نے مارچ 2025 میں پاکستان کرپٹوکونسل(پی سی سی) بنائی،اس میں حکومت اور نجی شعبے سے متعلقہ لوگوں کو جمع کیا،حکومت کی جانب سے وزارت قانون،سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان،اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور آئی ٹی منسٹری کو لیا جبکہ مارکیٹ سے بھی نوجوان اور باصلاحیت لوگوں کو لیا تاکہ وہ اس کو لیڈ کر سکیں ۔انہوں نے کہا کہ پی سی سی کے قیام کے بعد اپریل 2025 میں ہم نے اعلان کیا کہ ہم کرپٹو اور بٹ کوائین میں اپنے ذخائر کریئٹ کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پی سی سی کے قیام کے بعد جولائی 2025 میں ہم نے پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی (پی وی آر اے) بنائی، اس ادارے کو یو اے ای کے ادارے کے طرز پر بنایا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ادارہ لائنسنسگ کرے گا، جس طرح اسٹیٹ بینک کا کردار ہے، اس ادارے کا بھی اس طرز کا کردار ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کا مینڈٹ بہت وسیع ہے جبکہ پی وی آر اے کا مخصوص مینڈٹ ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل پاکستان بہت بڑا ویژن اور ہم چاہتے ہے کہ پہلے حکومتی پیمنٹس ڈیجیٹل ہوں،گزشتہ سال بینک اکائونٹس پلس والٹس کی تعداد90 ملین تھی اور اب یہ تعداد بڑھ کر 112 ملین تک پہنچ گئی ہے جبکہ ہمارا ہدف 120 ملین ہے جس کے ہم قریب پہنچ گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ سب اقدامات عالمی معیار کو مدنظر رکھتے ہوئے اٹھائے جارہے ہیں۔ٹوکنائزیشن کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے متعلق انہوں نے کہا کہ اس پر حکومت سوچ رہی ہے لیکن ہم نے احتیاط کے ساتھ آگے بڑھنا اور اس حوالے سے دنیا کے دیگر ممالک کے تجربات سے سیکھ کر بہتر سے بہترین کی طرف جانا ہے۔انہوں نے کہا کہ سب پر امید رہیں، بہت اچھی ڈویلپمنٹس ہورہی ہیں اور بہت اچھے اعلانات سامنے آئیں گے،حکومت ایسے اقدامات کررہی ہے کہ نئی جدت کو جلد اپنایااور عوام کے لئے فائدہ مند بنایا جاسکے۔ٹیکس کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے ہم نے پالیسی اور کلیکشن کو الگ کیا ہے ،پہلے ایف بی آر پالیسی بھی بناتاتھا اور ٹیکس بھی جمع کرتا تھا لیکن اب اس کو الگ کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹیکس سب نے دینا ہے لیکن ڈیجیٹل اسیٹس پر ٹیکس کے حوالے سے اس وقت کچھ بھی کہنا قبل ازوقت ہوگا۔انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت سرمایہ کاری کو آسان بنانے، کاروبار کرنے میں سہولت فراہم کرنے اور ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے ذریعے پائیدار ترقی کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔خرم شہزاد نے مزید کہا کہ حکومت کی کوششوں کے نتیجے میں ملک میں سرمایہ کاری کے لیے موافق ماحول پیدا ہو رہا ہے جس سے نہ صرف مقامی بلکہ غیر ملکی سرمایہ کار بھی فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے نجی شعبے سے اپیل کی کہ وہ حکومتی کوششوں میں بھرپور تعاون کرے تاکہ ملک کی اقتصادی ترقی کو مزید تقویت مل سکے۔











