اقوامِ متحدہ، 20 جنوری ( اے پی پی): اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے دارفور (سوڈان) سے متعلق بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) بریفنگ پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ دارفور میں ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کی جانب سے ارتکاب کیے گئے انسانیت سوز مظالم کے ایک نہایت تشویشناک سلسلے کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں گزشتہ سال شہر کے سقوط کے بعد اٹھارہ ماہ کے محاصرے کے بعدایل فاشر میں ہونے والے جرائم بھی شامل ہیں، جو سلامتی کونسل کی قرارداد 2736 کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے کہا آر ایس ایف کے اقدامات، جن میں جنسی تشدد، اجتماعی زیادتیاں، ماورائے عدالت قتل، غیر قانونی حراستیں، نسلی بنیادوں پر قتل، لاشوں کی بے حرمتی اور دیگر مبینہ جرائم شامل ہیں، سنگین بین الاقوامی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔ ان ہولناک کارروائیوں کی دل دہلا دینے والی تصاویر اور ان پر مجرموں کی جانب سے جشن منانے کے مناظر وسیع پیمانے پر گردش کر رہے ہیں، جنہوں نے انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اور عالمی سطح پر شدید مذمت کو جنم دیا ہے۔
پاکستان عدالت کے ساتھ سوڈانی حکومت کی جانب سے دکھائے گئے تعاون کو سراہتا ہے۔ تعمیری شمولیت، جس میں عدالتی مشنز کی سہولت کاری اور معلومات کا تبادلہ شامل ہے، انصاف اور احتساب کے لیے سوڈان کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت اور سوڈانی حکومت کے درمیان تعاون ایسا ہونا چاہیے جو احتساب کے لیے ایک جامع نقطۂ نظر کو فروغ دے، جس میں اصولِ تکمیلیت (کمپلیمنٹیریٹی) اور قومی خودمختاری کا احترام یقینی بنایا جائے۔ پائیدار، قابلِ اعتماد اور مقامی سطح پر مضبوط احتساب کے لیے سوڈان کے قومی عدالتی اداروں کو مضبوط بنانا ایک بنیادی ترجیح بنا رہنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا بھر میں بین الاقوامی جرائم کے احتساب کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے، نہ صرف دارفور میں۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت کی ساکھ اور اخلاقی حیثیت کا انحصار اس امر پر ہے کہ وہ جن مقدمات کی تفتیش اور پیروی کرتی ہے ان میں معروضیت، غیر جانبداری اور عدم امتیاز کو یقینی بنائے۔











