لاہور۔24جنوری (اے پی پی):چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) راشد لنگڑیال نے کہا ہے کہ پاکستان میں ٹیکس نیٹ کو وسعت دیے بغیر معیشت کو مستحکم کرنا ممکن نہیں،کچھ لوگ باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرتے ہیں جبکہ بہت سے لوگ اب بھی ٹیکس سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز یہاں لاہور آرٹس کونسل الحمرا میں تھنک فسٹ( افکار تازہ) میں منعقدہ پینل ڈسکشن کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ پینل ڈسکشن میں سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور چیئرمین انٹرلوپ مصدق ذوالقرنین بھی موجود تھے۔ چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ پاکستان میں ٹیکس فائلرز کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہونی چاہیے جو اس وقت نظام کا حصہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں 42 ملین گھرانے موجود ہیں جن میں سے تقریبا سات فیصد گھروں میں ایئر کنڈیشنر نصب ہیں، ایسے تمام گھرانوں کو ٹیکس نیٹ میں شامل ہونا چاہیے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ جون 2025 میں ختم ہونے والے مالی سال کے دوران 4.9 ملین افراد نے ٹیکس ریٹرن جمع کروائے، جبکہ رواں سال یہ تعداد بڑھ کر 5.9 ملین ہو گئی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ان میں سے 3 لاکھ 20 ہزار افراد نے ریٹرن میں یہ ظاہر کیا کہ ان پر ٹیکس ادا کرنے کی کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی، جو ٹیکس کمپلائنس کے حوالے سے ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔راشد لنگڑیال نے کہا کہ پاکستان میں ایف بی آر اور جی ڈی پی کا تناسب خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کم ہے، جس کی بنیادی وجہ ٹیکس نیٹ کا محدود ہونا اور کمپلائنس ریٹ کا کم ہونا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب ٹیکس نیٹ میں لوگ شامل نہیں ہوں گے تو بوجھ چند مخصوص طبقات پر ہی پڑے گا۔چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ اس وقت سب سے زیادہ ٹیکس کا بوجھ تنخواہ دار طبقے پر ہے، کیونکہ وہ اپنی آمدن چھپا نہیں سکتا۔ انہوں نے بتایا کہ تنخواہوں پر ٹیکس کی شرح بعض سلیبز میں 35 فیصد تک پہنچ جاتی ہے، جبکہ 41 لاکھ روپے سالانہ آمدن پر ٹیکس کی شرح 35 فیصد ہو جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی ممالک سے موازنہ کیا جائے تو پاکستان میں تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کی شرح نسبتا زیادہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایک کروڑ روپے سالانہ کمانے والے شخص پر اوسط ٹیکس ریٹ تقریبا 27 فیصد بنتا ہے، تاہم اصل مسئلہ ٹیکس ریٹ نہیں بلکہ کم کمپلائنس ہے۔ ان کے مطابق اگر زیادہ لوگ ٹیکس نیٹ میں آ جائیں تو ٹیکس کی شرح میں کمی ممکن ہو سکتی ہے۔ راشد لنگڑیال نے انکشاف کیا کہ ملک میں موجود 1 لاکھ 76 ہزار ڈاکٹرز میں سے صرف 55 ہزار نے ٹیکس ریٹرن جمع کروایا، جبکہ ان میں سے 39 ہزار ڈاکٹرز نے سالانہ آمدن 20 لاکھ روپے سے کم ظاہر کی، جس کے نتیجے میں انہوں نے بہت کم ٹیکس ادا کیا۔، جو ٹیکس کمپلائنس کے حوالے سے تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے ٹیکس ریٹس میں اضافے کی وجوہات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو بڑا حصہ دینا پڑتا ہے۔ 100 روپے میں سے صرف 38 روپے وفاقی حکومت کو ملتے ہیں جبکہ 58 روپے صوبوں کو منتقل ہو جاتے ہیں، اس کے علاوہ وہ چار روپے کے محصولات جو ختم کیے گئے تھے، ان کا فائدہ بھی صوبوں کو جاتا ہے، جس سے وفاقی حکومت کے مالی وسائل محدود ہو جاتے ہیں۔اس موقع پر مصدق ذوالقرنین نے کہا کہ سیلری کلاس مسلسل ٹیکس دے رہی ہے جبکہ کارپوریٹ سیکٹر میں ٹیکس ادائیگی کا معیار یکساں نہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تنخواہ دار طبقے کو 25 فیصد تک ٹیکس میں رعایت ملنی چاہیے۔ اس پر چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ مصدق ذوالقرنین ایک گولڈ پلیٹڈ ٹیکس پیئر ہیں جو ایمانداری سے ٹیکس ادا کرتے ہیں۔چیئرمین ایف بی آر نے واضح کیا کہ ایکسپورٹرز کے لیے الگ الگ ٹیکس ریٹس نہیں ہونے چاہئیں ، ایف بی آر نارمل ٹیکس رجیم کے نفاذ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی کمپنی غلط ٹیکس ریٹرن جمع کرواتی ہے تو اس کا آڈٹ کیا جائے گا۔راشد لنگڑیال نے کہا کہ ایف بی آر ٹیکس کولیکشن میں اضافے کے لیے ادارہ جاتی اصلاحات کر رہا ہے۔ ایف بی آر میں 17 ہزار ملازمین خدمات انجام دے رہے ہیں اور احتساب کے نظام کو مزید موثر بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شوگر ملوں پر نگرانی اور موثر چیک اینڈ بیلنس کے نتیجے میں اربوں روپے کا اضافی ریونیو حاصل ہوا۔چیئرمین ایف بی آر نے مزید بتایا کہ ایف بی آر میں کرپشن کے الزامات پر سی ایس ایس افسران کو بھی گرفتار کیا گیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ادارہ احتساب کے عمل میں سنجیدہ ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ٹیکس نظام کو شفاف، منصفانہ اور موثر بنایا جائے گا تاکہ ٹیکس کا بوجھ محدود طبقے کے بجائے تمام صاحبِ استطاعت افراد پر یکساں طور پر پڑے۔چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ آج سے پندرہ سال قبل ٹیکس ریٹس نسبتا کم تھے، اس کے باوجود لوگ ٹیکس کم ہی ادا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 15 برس میں ٹیکس ریٹس میں اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایف بی آر ٹیکس نظام کو منصفانہ بنانے، ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور کمپلائنس بہتر بنانے کے لیے اصلاحات جاری رکھے گا تاکہ ٹیکس کا بوجھ صرف تنخواہ دار طبقے پر نہ رہے بلکہ ہر صاحبِ استطاعت فرد اپنی ذمہ داری ادا کرے۔











