قومی اسمبلی اجلاس : ترلائی خودکش حملہ میں شامل دہشتگردوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے، وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری

64

اسلام آباد، 9فروری(اے پی پی):وزیر پارلیمانی امور نے قومی اسمبلی میں بیان دیا ہے کہ ترلائی خودکش حملہ میں شامل دہشتگردوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

 قومی اسمبلی میں  اسلام آباد میں حالیہ دہشتگرد حملہ کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے نے آگاہ کیا  کہ مسجد میں خودکش حملہ کرنے والا دہشتگرد یاسر بہادر خان تھا جو پشاور کا رہائشی تھا۔ انہوں نے کہا کہ حملے میں 33 لوگ شہید اور 150 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

وزیر پارلیمانی امور  نے کہا کہ دہشتگرد نے گارڈ پر فائرنگ کی اور گارڈ زخمی ہو گیا۔ اس کے بعد دہشتگرد مسجد کے اندر داخل ہوا اور نماز کے دوران خود کو دھماکے سے اڑا دیا  دیا۔

انہوں نے کہا کہ حملے میں شامل دہشتگردوں کو افغانستان میں تربیت دی گئی تھی اور ان کے تعلقات ہندوستان اور افغانستان سے ہیں ۔

وزیر پارلیمانی امور نے ایوان کو آگاہ کیا کہ حملہ کے چند گھنٹوں کے بعد ہی سرچ آپریشن کے دوران مزید دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

وزیر پارلیمانی امور کا کہنا تھا کہ  دہشتگرد کے ساتھیوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

وزیر پارلیمانی امور نے شہداء اور زخمیوں کے لیے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت زخمیوں کے علاج کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے۔

وزیر پارلیمانی امور نے کہا کہ حکومت دہشتگردی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور دہشتگردوں کو کبھی بھی معاف نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کے خلاف کارروائی میں پاکستان آرمی اور دیگر سکیورٹی ایجنسیاں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں ۔

وزیر پارلیمانی امور نے کہا کہ حکومت متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کی مدد کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو عالمی سطح پر حمایت حاصل ہے ۔