اسلام آباد، 12 فروری (اے پی پی): پرائمری ہیلتھ کیئر فار یونیورسل ہیلتھ کوریج 2026 پر عمل درآمد کے سلسلے میں تقریب منعقد ہوئی جس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت مصطفٰی کمال نے کہا کہ ہیلتھ کیئر کسی بھی ملک کیلئے قومی سلامتی اور معیشت کا معاملہ ہے اور پرائمری ہیلتھ کیئر کو صحت کے نظام میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پرائمری ہیلتھ کیئر کے شعبے میں ماضی میں خاطر خواہ کام نہیں ہو سکا تاہم اب صحت کے نظام کی بہتری حکومت کا ہدف ہے۔
مصطفٰی کمال نے کہا کہ بڑے ہسپتالوں پر مریضوں کا دباؤ بہت زیادہ ہے کیونکہ جب پرائمری ہیلتھ کیئراور سیکنڈری ہیلتھ کیئرمضبوط نہ ہوں تو لوگ بڑے ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسپتالوں میں آنے والے 90 فیصد مریضوں کو مقامی ہیلتھ کیئر یونٹس میں جانا چاہیے مگر مقامی نظام کی کمی کے باعث مریض براہ راست بڑے اسپتالوں میں پہنچ جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پرائمری ہیلتھ کیئر سسٹم کو مضبوط کیا جا رہا ہے اور سک کیئر سے ہیلتھ کیئر کی طرف نظام کو منتقل کرنا ہوگا۔ وزیر صحت نے بتایا کہ دور دراز علاقوں میں ٹیلی میڈیسن سسٹم کے ذریعے ڈاکٹرز کی دستیابی یقینی بنائی گئی ہے اور کراچی میں 6 جبکہ اسلام آباد میں 4 ٹیلی میڈیسن یونٹس کا آغاز کیا جا چکا ہے جہاں علاج معالجہ کامیابی سے جاری ہے۔
وزیر صحت نے کہا کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 11 ہزار مائیں زچگی کے دوران انتقال کر جاتی ہیں اور کمزور صحت کے باوجود ولادت کا رجحان اموات کی بڑی وجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماں اور بچے کی صحت کے تحفظ کیلئے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
مصطفٰی کمال نے کہا کہ جلد پاکستان میں مقامی سطح پر ویکسین تیار کی جائے گی کیونکہ ویکسین مستقبل کی بیماریوں سے بچاؤ کیلئے لازم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں 13 بیماریوں کے حفاظتی ٹیکہ جات لگائے جاتے ہیں اور حکومت یہ ٹیکے بلا معاوضہ فراہم کرتی ہے جبکہ جلد حفاظتی ٹیکہ جات کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ انسداد سروائیکل کینسر ویکسین بھی حفاظتی ٹیکہ جات میں شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں بیماریوں سے بچاؤ کیلئے ویکسینیشن کو ترجیح دی جاتی ہے اور کوویڈ کی لہر کے دوران امریکہ سے چین تک ہیلتھ سسٹم شدید دباؤ کا شکار ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ مقامی طور پر ویکسین کی تیاری لوگوں کو بیمار ہونے سے بچانے کی اہم کڑی ہے۔
وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ انسانوں کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے کیلئے مربوط حکمت عملی تشکیل دی گئی ہے اور اس پر تیزی سے کام جاری ہے۔











