اسلام آباد، 12فروری(اے پی پی):چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام، سینیٹر روبینہ خالد نے جرمن ترقیاتی تعاون اور گیٹس فاؤنڈیشن کے اشتراک سے منعقدہ “سوپران لرننگ ڈسمینیشن” تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سوپران کا مقصد سماجی تحفظ کے پروگراموں سے مؤثر استفادہ کرتے ہوئے، خصوصاً بی آئی ایس پی سے مستفید ہونے والی لڑکیوں اور ان کے خاندانوں تک مربوط سرگرمیوں کے ذریعے پروگرام کی رسائی بڑھانا اور آئرن کی کمی سے پیدا ہونے والی خون کی کمی کے سدباب کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ پائلٹ منصوبہ ملک کے سات اضلاع میں نافذ کیا گیا، جس سے مستقبل میں اس کی توسیع کے لیے راہ ہموار ہوئی ہے۔
انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ بی آئی ایس پی ایک سماجی تحفظ کے ادارے کے طور پر صرف مالی امداد تک محدود نہیں بلکہ قومی ترقیاتی ترجیحات کے مطابق تعلیم، صحت اور مستفید خاندانوں کی مجموعی فلاح و بہبود میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی بصیرت افروز قیادت نے بی آئی ایس پی کی بنیاد ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر رکھی جو خواتین کو بااختیار بنانے اور سماجی ترقی میں ایک مؤثر ذریعہ ثابت ہوا ہے۔
سینیٹر روبینہ خالد نے جرمن حکومت، گیٹس فاؤنڈیشن اور تمام تکنیکی شراکت داروں کی مسلسل حمایت و تعاون پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے صحت، غذائیت اور صحت مند طرزِ زندگی سے متعلق آگاہی کو مزید وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا اور اس امر کی نشاندہی کی کہ ایسی آگاہی کو بنیادی تعلیمی نصاب کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے سماجی رویوں میں مثبت تبدیلی کے لیے والدین کے کلیدی کردار کو بھی اجاگر کیا اور بی آئی ایس پی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے انہوں نے ایک صحت مند اور مضبوط پاکستان کے لیے شراکت داروں کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
اس سے قبل ایک نوجوان طالبہ لاریب رشید نے سوپران کے ساتھ اپنے تجربات بیان کیے اور بتایا کہ اس پروگرام نے کس طرح اس کی صحت سے متعلق آگاہی، طرزِ زندگی اور روزمرہ غذائی عادات پر مثبت اثر ڈالا ہے۔ طالبہ نے زندگی کی ان ضروریات کے حوالے سے خواتین اور بچیوں میں بیداری پیدا کرنے میں بی آئی ایس پی کے کردار کو سراہا۔
سوپران پروگرام قومی ترجیحات کے مطابق ادارہ جاتی سطح پر اسٹریٹجک شراکت داری کے ذریعے سماجی تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے بی آئی ایس پی کے پختہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ بی آئی ایس پی کی قیادت میں نافذ کیے جانے والے اس پروگرام میں نیوٹریشن انٹرنیشنل، سی ای آر پی اور ورلڈ فوڈ پروگرام کی تکنیکی معاونت شامل ہے، جبکہ GIZ کے ذریعے جرمن حکومت اور گیٹس فاؤنڈیشن کی مالی و فنی مدد بھی حاصل ہے۔ اس باہمی تعاون نے سماجی تحفظ کے فریم ورک کے اندر غذائیت سے متعلقہ اقدامات کے مؤثر انضمام کو ممکن بنایا ہے تاکہ نوعمر لڑکیوں کی غذائی ضروریات کو شواہد پر مبنی اور مؤثر خدمات کے ذریعے پورا کیا جا سکے۔
سوپران کے ذریعے بی آئی ایس پی نے ایک جامع ماڈل متعارف کرایا ہے جو سات اضلاع میں نوعمر لڑکیوں کے لیے غذائیت، آگاہی اور بااختیار بنانے کو یکجا کرتا ہے۔ اس اقدام کے تحت ہفتہ وار آئرن اور فولک ایسڈ سپلیمنٹس کی فراہمی، مضبوط گندم کے آٹے تک رسائی کا فروغ، اور کمیونٹی کی سطح پر غذائیت سے متعلق آگاہی اور رویوں میں مثبت تبدیلی کی سرگرمیاں شامل ہیں۔ ان اقدامات نے توانائی کے لئے ضروری رسائی کے نظام کو مضبوط کیا، غذائیت کے بارے میں بہتر فہم کو فروغ دیا، اور پالیسی سازی و پروگرام ڈیزائن کے لیے اہم شواہد فراہم کیے ہیں۔ موجودہ نظام میں سیکھنے، رابطہ کاری اور مؤثر ترسیل کو شامل کرتے ہوئے سوپران نے جامع اور غذائیت کے ذریعے مضبوط سماجی تحفظ کو فروغ دینے میں بی آئی ایس پی کے کردار کو مزید مستحکم کیا ہے اور ترقیاتی شراکت داروں کے تعاون سے پائیدار قومی تعمیر کے اقدامات کی بنیاد رکھی ہے۔
تقریب میں جرمن سفارت خانے کی ہیلین پاسٹ، GIZ پاکستان کی کنٹری ڈائریکٹر ماریا جوزے پوڈے، اور گیٹس فاؤنڈیشن کی زینا سیفری نے بھی خطاب کیا اور اشتراکی نیوٹریشن پروگرامنگ کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ تقریب کے اختتام پر چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد نے شراکت دار اداروں کے نمائندگان میں شیلڈز بھی تقسیم کیں۔











