لاہور، 27 فروری، مغربی سرحدی صورتحال کے پیش نظر انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس عبدالکریم کی زیر صدارت سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کیلئے ویڈیو لنک اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبہ بھر میں سکیورٹی مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔آئی جی پنجاب نے لاہور اور راولپنڈی سمیت صوبے کے تمام اضلاع میں سکیورٹی بڑھانے کے احکامات جاری کرتے ہوئے ہدایت کی کہ آر پی اوز، سی پی اوز اور ڈی پی اوز مساجد، عبادت گاہوں اور اہم تنصیبات کی سکیورٹی کا خود جائزہ لیں۔ انہوں نے کہا کہ بین الصوبائی پولیس چیک پوسٹوں، پولیس اسٹیشنز و دفاتر اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی عمارات کی سکیورٹی بھی مزید مؤثر بنائی جائے۔آئی جی پنجاب نے ہدایت کی کہ چینی ماہرین و باشندوں سمیت تمام غیر ملکی شہریوں کی رہائش گاہوں، ورک پلیسز اور نقل و حرکت کے دوران فول پروف سکیورٹی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ پولیس افسران، سپیشل برانچ، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) اور دیگر سکیورٹی ایجنسیوں کی مشاورت سے جامع سکیورٹی آرڈر تشکیل دیا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ افغان باشندوں سمیت غیر قانونی طور پر مقیم تمام غیر ملکی شہریوں اور تارکین وطن کے انخلا کی مہم میں تیزی لائی جائے۔ انٹیلی جنس بیسڈ، سویپ اینڈ کومبنگ آپریشنز کا دائرہ کار بین الصوبائی سرحدی علاقوں تک بڑھانے کی بھی ہدایت کی گئی۔آئی جی پنجاب نے ہدایت کی کہ پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے کیمروں کی مدد سے مارکیٹوں، کاروباری مراکز اور دیگر حساس مقامات کی مسلسل مانیٹرنگ یقینی بنائی جائے۔ حکومت پنجاب کی جانب سے ڈرون کے استعمال پر نافذ دفعہ 144 پر سختی سے عمل درآمد کروانے کا بھی حکم دیا گیا۔ویڈیو لنک اجلاس میں سی سی پی او لاہور، ایڈیشنل آئی جی ساؤتھ پنجاب، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی، ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ، تمام آر پی اوز، سی پی اوز اور ڈی پی اوز نے شرکت کی۔ ایڈیشنل آئی جی پی ایچ پی فیصل علی راجہ، ڈی آئی جی آئی ٹی منصورالحق، اے آئی جی آپریشنز، اے آئی جی ڈویلپمنٹ اور اے آئی جی ایڈمن بھی اجلاس میں موجود تھے۔











