اسلام آباد۔3مارچ (اے پی پی):نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانی محفوظ ہیں، حکومت نے وزارتِ خارجہ میں کرائسس مینجمنٹ یونٹ کو فعال کردیا ہے اور خطے میں موجود تمام سفارتی مشنز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ پھنسے ہوئے پاکستانیوں کو سہولت فراہم کریں۔ نائب وزیر اعظم نے ان خیالات کا اظہار منگل کو یہاں دفتر خارجہ میں مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال بالخصوص خلیجی ممالک میں پھنسے پاکستانیوں کے مسئلہ پر میڈیا کو بریفنگ دیتے پوئے کیا۔ نائب وزیرِاعظم نے کہا کہ خلیج اور ایران کی صورتحال تیزی سے تبدیل ہورہی ہےِ، خطے میں موجود ساڑھے چار ملین سے زائد پاکستانی محفوظ ہیں اور اب تک کسی براہِ راست خطرے کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔انہوں نے کہا کہ وزیرِاعظم محمد شہباز شریف نے دفترِ خارجہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ میڈیا کو باقاعدگی سے بریفنگ دے اور کشیدگی کے باعث فضائی حدود کی بندش سے متاثر پاکستانیوں کے حوالے سے عوام کو آگاہ رکھے۔ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ اومان اور سعودی عرب کے بعض اندرونی علاقوں کے علاوہ بیشتر فضائی حدود بند ہیں جس کے باعث انخلاءکی پروازوں میں رکاوٹ پیش آ رہی ہے تاہم خلیجی ممالک کے درمیان زمینی راستے کھلے ہیں اور پاکستانیوں سمیت دیگر ممالک کے شہری ان سے فائدہ اٹھارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ افراد مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور جدہ سے ہوائی سفر کے ذریعے دمام پہنچ کر وہاں سے سڑک کے راستے بحرین جا رہے ہیں جبکہ دبئی تقریباً سات گھنٹوں میں سڑک کے ذریعے پہنچا جاسکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ سہولت صرف پاکستانیوں تک محدود نہیں بلکہ دیگر ممالک کے شہری بھی ان راستوں سے استفادہ کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 300 سے زائد ایرانی شہری جو کارآمد ویزوں کے حامل تھے، پاکستان میں داخل ہوچکے ہیں جبکہ 1400 پاکستانی بھی ملک میں واپس آئے ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے متحدہ عرب امارات میں مقیم تقریباً 21 لاکھ افراد پر مشتمل بڑی پاکستانی برادری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان میں سے صرف 4543 افراد قلیل مدتی دورے پر تھے۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کی حکومت نے مکمل تعاون فراہم کیا جس میں غیر ملکی شہریوں کی روانگی میں سہولت دینے کےلئے عارضی طور پر ہوائی اڈہ کھولنا بھی شامل ہے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ میزائل حملوں کے دوران ابو ظہبی میں ایک پاکستانی شہری شہید ہو گیا، ان حملوں میں نہ صرف فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا بلکہ شہری علاقوں بشمول ایک ہوائی اڈے اور رہائشی مقامات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ قطر میں تقریباً 3 لاکھ 50 ہزار پاکستانی مقیم ہیں جبکہ لگ بھگ 1,400 افراد قلیل مدتی دورے پر تھے۔ انہوں نے کہا پاکستانی مشن نے تصدیق کی ہے کہ قطری حکومت رہائش، خوراک اور ویزا سہولت کے حوالے سے مکمل تعاون فراہم کر رہی ہے۔ نائب وزیر اعظم نے کہا کہ سعودی عرب میں جہاں تقریباً 25 لاکھ پاکستانی مقیم ہیں، صورتحال مستحکم ہے۔ انہوں نے کہا کہ واپسی کے خواہشمند پاکستانی پی آئی اے کی پروازوں کے ذریعے اومان کے راستے وطن واپس آسکتے ہیں کیونکہ عمان کی فضائی حدود کھلی ہوئی ہے۔ اسی طرح کویت میں ایک لاکھ ایک ہزار سے زائد پاکستانی، بحرین میں1,34,064، اومان میں3,82,000 اور اردن میں تقریباً 18,000 میں کسی بھی ہنگامی انخلاءکی ضرورت والے پھنسے ہوئے پاکستانیوں کی اطلاع نہیں ملی۔ محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ عراق میں تقریباً 40 ہزار پاکستانی مقیم ہیںجن میں سے 850 افراد اس وقت وطن واپسی کے خواہشمند ہیں تاہم عراق میں فضائی حدود کی بندش ایک بڑا چیلنج ہے، متعدد زائرین کربلا اور نجف میں موجود ہیں اور پاکستانی مشن انہیں ضروری معاونت فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ مسلسل علاقائی اور عالمی ہم منصبوں سے رابطے میں ہیں جن میں ایران، سعودی عرب، قطر، اومان، عراق، آذربائیجان، ترکیہ، مالدیپ، بنگلہ دیش، فلسطین اور ازبکستان کے وزرائے خارجہ کے علاوہ متحدہ عرب امارات کے نائب وزیرِاعظم اور یورپی یونین کے اعلیٰ نمائندے بھی شامل ہیں۔ نائب وزیر اعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ ہماری کوششوں کا محور تنازعہ کو روکنا اور سفارت کاری کی بحالی ہے، موجودہ کشیدگی اسرائیل اور ایران کے درمیان ہے، ہم تمام فریقوں سے رابطے میں ہیں تاکہ صورتحال کو دوبارہ مذاکرات کی طرف لایا جاسکے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان نے ایران پر حملے کی شدید مذمت کی ہے اور انہوں نے ذاتی طور پر پاکستان کا مو_¿قف ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی تک پہنچایا۔ نائب وزیرِاعظم نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، اومان، بحرین، آذربائیجان اور ایران کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے پاکستانیوں کی سہولت کےلئے مکمل تعاون فراہم کیا۔ انہوں نے کرائسس مینجمنٹ یونٹ اور بیرونِ ملک پاکستانی مشنز کے افسران کی شبانہ روز خدمات کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے مشنز اور میزبان حکومتوں سے مسلسل رابطے میں ہیں اور وزیرِاعظممحمد شہباز شریف کو صورتحال سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے تحفظ کےلئے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گی۔ نائب وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت نے ایران اور دیگر خلیجی ممالک میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں کی سہولت اور معاونت کےلئے جامع اقدامات کئے ہیں، پاکستان نے مختلف مسلم ممالک کے وزارئے خارجہ اور سفارتکاروں سے رابطہ کیا ہے، چاہتے ہیں کہ خلیجی ممالک سفارتکاری کی طرف لوٹیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے، اگر صورتحال نازک ہوتی ہے تو اس کا اثر ہم پر بھی آئے گا، چین بھی چاہتا ہے کہ خطے میں امن بحال ہو۔ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ واپس آنے والے پاکستانی شہریوں کی معاونت کےلئے خصوصی سہولت ڈیسک قائم کیے گئے ہیں، وزارتِ خارجہ کا کرائسز مینجمنٹ یونٹ چوبیس گھنٹے فعال ہے اور اس کے رابطہ نمبرز سرکاری ایکس ہینڈل پر دستیاب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے شہروں تہران، زاہدان اور مشہد میں تین سہولت مراکز قائم کیے گئے ہیں تاکہ پاکستانیوں کی رہنمائی اور مدد کی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ پھنسے ہوئے پاکستانیوں کی ہر ممکن معاونت کےلئے پاکستان مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ اور اعلیٰ حکام سے رابطے میں ہے۔ نائب وزیرِ اعظم نے کہا کہ ابوظہبی میں پاکستان کا سفارت خانہ اور جدہ و دبئی میں قونصل خانے پاکستانی شہریوں کی فعال معاونت کررہے ہیں۔ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ نے بحرین، اومان، کویت، سعودی عرب، قطر، ایران اور آذربائیجان کا پاکستانی برادری کے ساتھ تعاون اور مدد پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اب تک 792 پاکستانی ایران سے واپس آچکے ہیں جبکہ تقریباً 33 ہزار پاکستانی اس وقت وہاں مقیم ہیں۔ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان سمیت کئی ممالک کے شہری ایران اور بعض خلیجی ریاستوں میں پھنسے ہوئے ہیں کیونکہ اومان اور سعودی عرب کے علاوہ فضائی حدود بند ہیں تاہم زمینی راستے کھلے ہیں جو اگرچہ وقت طلب ہیں لیکن کئی ممالک ان کے ذریعے انخلا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عراق کی فضائی حدود بھی بند ہے اس لئے عراق میں موجود پاکستانی زائرین کی بھی معاونت کی جا رہی ہے۔ نائب وزیر اعظم نے کہا کہ ابوظہبی میں میزائل گرنے سے ایک پاکستانی شہری شہید ہوا ہے۔ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ ایران اور خلیجی ممالک میں صورتحال ابتر ہے، پاکستان چاہتا ہے کہ خلیجی ممالک سفارتکاری کی طرف لوٹیں، ایران اور خلیجی ممالک کے فضائی روٹس بند ہیں، پاکستان سمیت کئی ممالک کے افراد ایران اور خلیجی ممالک میں پھنسے ہوئے ہیں۔ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ خلیجی ممالک میں تقریباً 45 لاکھ پاکستانی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف ممالک زمینی راستوں کو استعمال کر رہے ہیں، ابوظہبی میں سفارت خانہ اور جدہ اور دبئی میں قونصل خانے فعال ہیں، ایران میں 3 سینٹرز تہران، زاہدان اور مشہد میں فعال ہیں، خصوصی سہولت ڈیسک کا مقصد پاکستانیوں کی مدد ہے۔ انہوں نے کہا کہ باکو سے پروازیں آپریشنل ہیں، ایران سے 64 پاکستانی آذربائیجان پہنچے ہیں، پاکستانیوں کے انخلاءمیں معاونت پر آذربائیجان حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان داخلے پر اپنے شہریوں کی معاونت کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔











