سکھر: گمبٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز میں گردوں اور جگر کی مفت پیوند کاری کا سلسلہ جاری

25

سکھر، 04 مارچ (اے پی پی ):  گمبٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز جسے پیر سید قادر شاہ جیلانی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، مستحق اور نادار مریضوں کے لیے امید کا مرکز بن چکا ہے جہاں گردوں اور جگر کی مفت پیوندکاری کا سلسلہ جاری ہے۔ادارے کے سربراہ ڈاکٹر رحیم بخش نے 44 برس قبل دو کمروں پر مشتمل ڈسپنسری سے اس سفر کا آغاز کیا تھا جو آج 900 بستروں پر مشتمل جدید اسپتال کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ادارے کو پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل سے رجسٹرڈ میڈیکل کالج کا درجہ بھی حاصل ہے۔

اسپتال میں گردے اور جگر کی پیوندکاری جیسے آپریشن، جن پر نجی شعبے میں 60 لاکھ سے ایک کروڑ روپے تک خرچ آتا ہے، تمام سہولیات کے ساتھ مفت انجام دیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ جنرل میڈیسن، مختلف سرجریز، ڈائیلیسس، انجیوگرافی، انجیو پلاسٹی، بائی پاس سرجری، بون میرو ٹرانسپلانٹ اور بچوں و خواتین کی بیماریوں کے آپریشنز بھی بلا معاوضہ کیے جاتے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق ملک میں اعضاء کی ناکارگی کے باعث ہر سال ڈیڑھ لاکھ سے زائد مریض جان کی بازی ہار جاتے ہیں جن کے لیے پیوندکاری ہی واحد علاج ہے۔ گمبٹ انسٹی ٹیوٹ جدید مشینری، مفت لیبارٹری ٹیسٹ، نومولود بچوں کے لیے وینٹی لیٹرز، انکیوبیٹرز اور ایڈوانس آئی سی یو سمیت مکمل سہولیات فراہم کر رہا ہے۔

انتظامیہ کے مطابق اب تک تقریباً 1100 سے زائد ٹرانسپلانٹس کامیابی سے مکمل کیے جا چکے ہیں اور کامیابی کا تناسب 90 فیصد سے زیادہ ہے۔

اے پی پی/اطہراللہ/نورین

سکھر۔04 مارچ(اے پی پی)گمبٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز جسے پیر سید قادر شاہ جیلانی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، ایسے مریضوں کےلیے دارالامان کا درجہ رکھتا ہے جن کے پاس علاج معالجے کی سکت نہ ہونے سے گویا زندگی کی آس ہی ٹوٹ گئی تھی۔ گمس کے سربراہ ڈاکٹررحیم بخش ہیں جنہوں نے 44 برس قبل 2 کمروں پر مشتمل ڈسپنسری سے ابتداءکرتے ہوئے، اپنی جانفشاں ٹیم سے مل کر نہ صرف 900 بستروں والے جدید ہسپتال میں تبدیل کردیا بلکہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل سے رجسٹرڈ میڈیکل کالج کا درجہ دلوا دیا۔

گمبٹ اسپتال میں گردوں اور جگر کی مفت پیوند کاری جس آپریشن پر 60 لاکھ سے ایک کروڑ روپے تک خرچ ہوتے ہیں وہ اپنی تمام سہولیات سمیت یہاں مفت میں کیا جاتا ہے،  گمبٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز اسپتال اپنی نوعیت کا جدید ترین اسپتال ہے جو علاج کی آس لگائے، بھاری اخراجات کے باعث زندگی سے دور ہوتے ہزاروں مریضوں کےلیے زندگی کی نوید ہے۔ یہاں جگر کی پیوند کاری کی مفت سہولت سے لے کر کئی مہنگے ترین امراض کے مفت علاج کی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔

پاکستان میں اعضاءکی ناکارگی (آرگن فیلیور) کے باعث ہر سال ایک لاکھ 50 ہزار سے زائد ایسے مریض جان سے گزر جاتے ہیں جن کا علاج اعضاءکی پیوندکاری سے ہی ممکن ہوتا ہے۔ ایسے مریضوں کے لیے گمبٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (گمس) امید کی ایک ایسی کرن جو مسیحا کی تلاش میں نکلنے والوں کو راستہ دکھا رہی ہے۔

میڈیکل سائنس کے شعبے میں ہونے والی حیرت انگیز ترقی کے باعث جو بیماریاں ماضی میں لاعلاج سمجھی جاتی تھیں، اب ان کا بھی علاج دستیاب ہے۔ جگر، دل، بون میرو اور گردوں کی پیوندکاری اب ایک عام علاج ہے لیکن اس قسم کی بیماریوں کے علاج اس قدر مہنگے ہیں کہ ایک غریب آدمی ہی نہیں بلکہ مڈل کلاس کا کوئی مریض تک اس قسم کے مہنگے علاج کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتا۔

پاکستان پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت کے ہر ممکنہ تعاون سے گمس کے لیے جدید ترین مشینری درآمد کی گئیں جو ایشیائی اور عرب ممالک میں کہیں نہیں، گمس میں جنرل میڈیسن کے علاوہ سرجریز، ڈائیلیسس، انجیوگرافی، انجیو پلاسٹی، بائی پاس، ہڈی کے گودے کی پیوند کاری، بون میرو ٹرانسپلانٹ سمیت، بچوں اور خواتین کی بیماریوں کے تمام آپریشنز مفت کیے جاتے ہیں جبکہ مرض کی تشخیص کےلیے گمس کے پاس اپنی جدید مشینریاں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ ٹیسٹ بھی مفت کیے جاتے ہیں، نومولود بچوں کےلیے وینٹی لیٹرز، اینکیوبیٹرز اور ایڈوانس آئی سی یو بھی موجود ہیں، گمبٹ ہسپتال میں اب تک تقریباً 1100 سے زائد ٹرانسپلانٹ کیے جا چکے ہیں جس میں کامیابی کا تناسب 90 فیصد سے زیادہ ہے۔