لاہور ، 13 مارچ(اے پی پی): سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کی زیر صدارت پنجاب میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) فریم ورک اور مختلف منصوبوں کے جائزہ کے لیے اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں صوبے میں نجی شعبے کی شراکت سے ترقیاتی منصوبوں کو تیز رفتار بنانے اور محکموں کو فعال کردار ادا کرنے کی ہدایت کی گئی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ پنجاب میں پنجاب پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی اور اس سے متعلق پالیسی قائم کی جا چکی ہے جبکہ مختلف محکموں سے پی پی پی منصوبوں کے لیے تجاویز طلب کی گئی ہیں۔ ٹیکنیکل اور فنانشل کلوزنگ کے عمل کو مزید مضبوط بنانے پر بھی زور دیا گیا۔اجلاس کے دوران فیصلہ کیا گیا کہ پنجاب پی پی پی اتھارٹی محکموں کی معاونت کے لیے *پی پی پی نوڈز* قائم کرے گی۔ ہر نوڈ میں تین ماہرین شامل ہوں گے جن میں ایک تکنیکی، ایک مالیاتی اور ایک قانونی ماہر شامل ہوگا۔ منصوبوں کی نشاندہی اور ابتدائی عمل مکمل کرنا متعلقہ محکموں کی ذمہ داری ہوگی جبکہ محکموں کو پی پی پی منصوبوں کے لیے مستقل محکمانہ یونٹ قائم کرنے کی بھی ہدایت کی گئی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ اپریل سے محکموں کو تین مرکزی اسٹریٹجک یونٹس کی جانب سے تکنیکی معاونت فراہم کی جائے گی اور ہر محکمہ اپنے منصوبوں کا جامع ابتدائی پلان پیش کرے گا۔ پنجاب پی پی پی اتھارٹی نے 15 اہم محکموں میں پی پی پی نوڈز کے قیام کا عمل شروع کر دیا ہے جبکہ اسٹریٹجک یونٹس کے لیے ماہر پروفیشنلز کی بھرتی بھی جاری ہے۔ نوڈز کے مکمل طور پر فعال ہونے تک اتھارٹی کی ٹیم محکموں کو تکنیکی رہنمائی فراہم کرتی رہے گی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ پی ایف اے ایس کے قیام کا مقصد سرکاری منصوبہ بندی، فنانسنگ اور سروس ڈیلیوری کے نظام کو مؤثر بنانا ہے تاکہ عوامی سرمایہ کاری کو پائیدار اور مؤثر بنایا جا سکے۔ اس ضمن میں صحت، پانی، سیاحت اور تفریح کے شعبوں میں متعدد منصوبوں پر غور کیا گیا۔پانی و صفائی کے شعبے میں چکوال اور قصور میں خدمات کو پی پی پی ماڈل کے تحت آؤٹ سورس کرنے کی تجویز پیش کی گئی جبکہ لائیو اسٹاک کے شعبے میں *فوٹ اینڈ ماؤتھ بیماری* کے ویکسین پلانٹ کے قیام کا منصوبہ بھی زیر غور آیا۔ لاہور میں *ٹائم ٹریول پارک* کے قیام کی تجویز بھی پیش کی گئی۔سڑکوں اور انفراسٹرکچر کے شعبے میں متعدد اہم منصوبوں پر پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا جن میں ڈیپل پور–پاکپتن–وہاڑی روڈ، چراغ آباد–جھنگ–شورکوٹ روڈ اور مظفر گڑھ–علی پور–ترندا محمد پناہ روڈ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ساہیوال–سمندری اور بہاولپور–جھنگرا شرقی انٹرچینج سڑکوں کی توسیع کے منصوبے بھی زیر غور آئے۔اجلاس میں سیالکوٹ، گوجرانوالہ، گجرات، ڈسکہ، پسرور اور احمد پور ایسٹ سمیت مختلف شہروں کی سڑکوں کی دیکھ بھال اور آپریشنز کے لیے بھی فنڈز مختص کرنے کی تفصیلات پیش کی گئیں جبکہ بہاولپور، لودھراں، ساہیوال، ملتان، بوریوالہ، کھرڑیانوالہ اور حافظ آباد کے مختلف روڈ منصوبوں کی مینٹیننس اور آپریشنز کے لیے بھی منصوبے جاری ہیں۔اجلاس میں کھیلوں اور تعلیم کے شعبوں میں بھی پی پی پی مواقع بڑھانے کی ہدایت کی گئی اور تعلیمی اداروں کے گراؤنڈز کو عوامی استعمال کے لیے پی پی پی ماڈل کے تحت دینے کی تجویز پیش کی گئی تاکہ شہریوں کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔اجلاس میں بتایا گیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت کے مطابق سالانہ ترقیاتی پروگرام 2026-27 میں کم از کم 30 فیصد نئے منصوبے پی پی پی ماڈل کے تحت تیار کیے جائیں گے۔ نجی شعبے کی شراکت سے انفراسٹرکچر اور سروس ڈیلیوری میں تیزی لانے کے لیے چھ سڑکوں کے پی پی پی منصوبے اس وقت بڈنگ مرحلے میں ہیں جن کے لیے جلد نجی شراکت داروں کو ایوارڈ دیا جائے گا۔اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ پنجاب پی پی پی اتھارٹی کی منظوری سے سڑک، پانی، سیاحت اور لائیو اسٹاک کے شعبوں میں 27 نئے منصوبہ جاتی تصورات سامنے آئے ہیں جو صوبے میں انفراسٹرکچر اور عوامی خدمات کی فراہمی میں اہم کردار ادا کریں گے۔ اس مقصد کے لیے اتھارٹی کے تحت تحقیق و ترقی کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے جو قابل نقل پی پی پی ماڈلز پر تحقیق کرے گی اور ہیلتھ سیکٹر میں پی پی پی منصوبوں کی جامع پائپ لائن تیار کرے گی۔اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پی پی پی ماڈل تیز رفتار ترقی اور نجی سرمایہ کاری کے فروغ کا اہم ذریعہ ہے۔ پی پی پی منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ہر ماہ دو بار اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ منصوبوں کی مؤثر نگرانی اور بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جا سکے۔سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے ہدایت کی کہ محکمے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت منصوبوں کی نشاندہی اور تیاری میں فعال کردار ادا کریں اور پی پی پی منصوبوں کی رفتار مزید تیز کی جائے تاکہ صوبے میں ترقیاتی عمل کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔











