اسلام آباد، 14 مارچ ( اے پی پی): وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت خطے کی صورتحال کے پیش نظر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر اثر اور حکومتی بچت اقدامات کے نفاذ کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں استحکام کیلئے پالیسی اقدامات اور حکومت کی جانب سے کفایت شعاری اقدامات کے نفاذ پر پیش رفت اور ان کے اثرات پر گفتگو کی گئی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ حکومتی بچت اقدامات سے حاصل شدہ رقوم موجودہ حالات میں عوامی ریلیف کیلئے استعمال کی جائیں گی اور تمام کفایت شعاری اقدامات سے ہونے والی بچت عوامی ریلیف کیلئے مختص ہوگی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سرکاری ملازمین کی طرح اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز اور حکومتی سرپرستی میں خودمختار اداروں کے ملازمین کی تنخواہوں میں درجہ بہ درجہ 5 سے 30 فیصد تک کٹوتی کی جائے گی اور اس رقم کو عوامی ریلیف کیلئے استعمال کیا جائے گا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کارپوریشنز اور دیگر اداروں کے بورڈز میں موجود حکومتی نمائندے بورڈ اجلاسوں کی شرکت فیس نہیں لیں گے اور یہ رقم بچت میں شامل کی جائے گی۔
وزیر اعظم نے دنیا بھر میں موجود پاکستانی سفارتخانوں کو 23 مارچ کی تقریبات انتہائی سادگی سے منانے کی ہدایت بھی دی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ایف بی آر پر ہفتہ وار چار دنوں کے اوقات کار کا اطلاق نہیں ہوگا اور وہ اپنے سابقہ طریقہ کار کے مطابق فرائض انجام دیں گے۔
آئندہ دو ماہ کیلئے تمام محکموں کی سرکاری گاڑیوں کو ملنے والے تیل میں 50 فیصد کٹوتی اور سرکاری گاڑیوں کے 60 فیصد گراؤنڈ کیے جانے کے فیصلے کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کروانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس کو حکومت کی جانب سے نئی گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی اور دیگر تمام سرکاری خریداریوں پر پابندی کے نفاذ پر بھی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ آئندہ دو ماہ کیلئے کابینہ ارکان، وزراء، مشیران اور معاونین خصوصی کی تنخواہیں بھی بچت کے طور پر عوامی فلاح کیلئے استعمال کی جائیں گی۔ وزراء، مشیران اور معاونین خصوصی کے بیرونی دوروں پر مکمل پابندی برقرار رکھنے اور ٹیلی کانفرنسنگ اور آن لائن میٹنگز کو ترجیح دینے کے فیصلے پر بھی آگاہ کیا گیا۔وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ سرکاری افسران، وزراء، وزرائے مملکت اور معاونین خصوصی کے بیرونی دوروں پر مکمل پابندی برقرار رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ سادگی اور کفایت شعاری کے تمام اقدامات پر عملدرآمد اور نگرانی متعلقہ سیکریٹریز کریں گے اور روزانہ کی بنیاد پر جائزہ کمیٹی کو رپورٹ پیش کریں گے۔











