اسلام آباد ،26مارچ(اے پی پی):بھارتی سپریم کورٹ نے ایک متنازعہ فیصلے میں کہا ہے کہ اسلام یا عیسائیت میں تبدیلی پر شیڈولڈ کاسٹ کا درجہ ختم ہو جائے گا۔
بھارتی قانون کے تحت صرف ہندو، سکھ اور بدھ مت کے افراد شیڈولڈ کاسٹ درجہ کے اہل ہیں۔ یہ فیصلہ بھارتی شہری کے عیسائیت اختیار کرنے کے بعد سپریم کورٹ میں قانونی تحفظات کا دعویٰ کرنے کے بعد سامنے آیا ہے ۔
عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں مذہب تبدیلی قوانین کی آڑ میں اقلیتوں بالخصوص عیسائیوں کو منظم طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ حالیہ متنازعہ فیصلے کے بعد مذہب تبدیل کرنے والے افراد مخصوص مراعات یعنی نوکری، تعلیم اور سیاسی نمائندگی کا دعویٰ نہیں کر سکیں گے۔ بھارت میں بنیادی شہری حقوق کا تعلق مذہب سے ہونا بھارتی آئین کے آرٹیکل 14 اور 15 کے متصادم ہے ۔











