اسلام آباد، 30 مارچ (اے پی پی): وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت خلیجی بحران کے پیٹرولیم مصنوعات پر اثرات، پاکستان میں موجودہ ذخائر اور عوامی ریلیف کے اقدامات کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کمزور اور متوسط طبقے کو مزید ریلیف فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے اور مشکل کی اس گھڑی میں معاشی طور پر کمزور طبقے کو اکیلا نہیں چھوڑا جائے گا۔اجلاس کو بریفنگ دی گئی کہ صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر ممکنہ ریلیف سے استفادہ یقینی بنانے کے لیے موٹرسائیکل اور رکشوں کے حامل افراد کی ملکیتی رجسٹریشن کو جلد از جلد مکمل کرنے کے لیے روابط مربوط کیے جا رہے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ سرکاری اخراجات میں کمی، ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی اور 60 فیصد سرکاری گاڑیوں کو فوری طور پر بند کیا گیا ہے جبکہ موجودہ حالات میں قربانی کا آغاز حکومتی اخراجات میں کمی سے کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کی تجاویز کو بارہا مسترد کر کے بچت کے اقدامات سے حاصل شدہ رقم عوامی ریلیف کے لیے بروئے کار لائی گئی اور ڈیجیٹل نظام کے ذریعے یہ ریلیف عام آدمی تک پہنچایا جائے گا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ عالمی سطح پر بحران کے باوجود بروقت فیصلوں کے باعث ایندھن کی فراہمی میں کسی قسم کا تعطل نہیں آیا اور ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایندھن کے مناسب ذخائر موجود ہیں جبکہ آئندہ کے لیے بھی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ اشرافیہ کی بڑی گاڑیوں میں استعمال ہونے والے ہائی آکٹین ایندھن پر لیوی میں اضافے سے جیٹ فیول کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور وزیر اعظم کی بچت و سادگی مہم پر عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے۔ اجلاس کو ادویات کے وافر ذخائر سے بھی آگاہ کیا گیا۔
اجلاس میں آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے تجاویز پیش کی گئیں جبکہ انٹیلیجنس بیورو کی آڈٹ رپورٹ بھی پیش کی گئی جس میں وزیراعظم کی بچت مہم اور سادگی اقدامات پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزراء محمد آصف، احسن اقبال، ڈاکٹر مصدق ملک، احد خان چیمہ، سید مصطفی کمال، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، علی پرویز ملک، شزہ فاطمہ خواجہ، رانا مبشر اقبال، سردار اویس خان لغاری، مشیر وزیراعظم رانا ثناء اللہ، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، معاونین خصوصی طارق فاطمی، طلحہ برکی، ارکان قومی اسمبلی انجینئر قمر الاسلام، ریاض الحق، حافظ محمد نعمان اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔











