اسلام آباد،11اپریل (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں کمی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کا مفاد حکومت کی اولین ترجیح ہے ،انہیں اس سے بڑھ کر کوئی چیز عزیز نہیں، قومیں صرف حکومتی فیصلوں سے نہیں بلکہ عوام کے اتحاد اور نظم و ضبط سےترقی کرتی ہیں –
جمعہ کی شب قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ آج قوم سے ایک تاریخ ساز موقع پر مخاطب ہوں جب اللّہ تعالی کے فضل و کرم سے خلیج میں اب جنگ نہیں بلکہ امن کی باتیں ہو رہی ہیں اور وہ فریقین جو کل تک جنگ میں آمنے سامنے تھے اور خطے میں تباہی کا منظر تھا، آج الحمداللّہ دونوں فریقین بات چیت کے ذریعے معاملات کو طے کرنے پر راضی ہو چکے ہیں وزیراعظم نے کہا کہ وہ اس انتہائی اہم پیش رفت پر برادر ملک ایران اور امریکہ کی قیادت کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے ان کی تجویز قبول کرتے ہوئے نہ صرف عارضی جنگ بندی پر اتفاق کیا بلکہ ان کی پرخلوص دعوت پر دونوں ممالک کی قیادت اسلام اباد آ رہی ہے جہاں پر امن کے قیام کے لیے مذاکرات ہوں گے۔ پاکستان کو اللّہ تعالی نے میزبانی کا شرف عطا فرمایا ہے یہ صرف پاکستان کے لیے ہی نہیں بلکہ عالم اسلام کے لیے لمحہ فخریہ ہے اور جس کے لیے ہم رب ذوالجلال کا جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ان نازک ترین لمحات میں پاکستان کی قیادت نے انتہائی محتاط انداز میں بڑے اعتماد کے ساتھ دونوں فریقین کو عارضی جنگ بندی پر نہ صرف راضی کیا بلکہ اسلام آباد آنے کے لیے پرخلوص دعوت دی اس کے لیے وہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم اور بالخصوص فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ان کی ٹیم کو دل کی گہرائیوں سے خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے انتھک محنت کے ذریعے جنگ کے شعلے بجھانے اور فریقین کو مذاکرات پر راضی کرنے کے لیے کلیدی اور تاریخ ساز کردار ادا کیا اس حوالے سے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی خدمات کو تاریخ میں ہمیشہ سنہرے الفاظ میں یاد رکھا جائے گا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ عارضی جنگ بندی کا اعلان ہو چکا مگر اب اس سے بھی زیادہ کٹھن مرحلہ دیر پا جنگ بندی کا ہے، مذاکرات کے ذریعے الجھے ہوئےمسائل کو حل کرنا ہے۔
وزیراعظم نے قوم سے اپیل کی کہ وہ مذاکرات کی کامیابی کے لیے دعائیں کرے اس طرح ان گنت معصوم زندگیاں بچ جائیں گی اور دنیا میں امن قائم ہو جائے گا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اس کے لیے کل دونوں ممالک کی قیادت اسلام آباد میں موجود ہوگی اور پاکستانی قیادت ان مذاکرات کو کامیاب کرانے کے لیے حتی المقدور کوشش خلوص کے ساتھ کرے گی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ جب سے یہ قیامت خیز مہنگائی کا طوفان آیا ہے میں نے قوم سے یہ وعدہ کیا تھا کہ جوں ہی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں گریں گی انشاءاللّہ وہ فائدہ فوری طور پر عوام تک پہنچاؤں گا، آج عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کچھ کمی ہوئی ہے اور مجھے یہ مشورہ دیا گیا کہ پچھلے چند ہفتوں میں عوام تک اس قیامت خیز مہنگائی کو روکنے کے لیے جو حکومت پاکستان نے اپنے وسائل سے 129 ارب روپے خرچ کیے تھے ان اخراجات کو کم کرنے کے لیے اب تیل کی قیمتوں میں کچھ کمی واقع ہوئی ہے اس کا کچھ حصہ عوام کو پہنچایا جائے اور کچھ حصہ روک کر 129 ارب روپے کے اخراجات میں کمی لانے کے لیے استعمال کیا جائے۔وزیر اعظم نے کہا کہ انہوں نے ایک لمحے کی تاخیر کیے بغیر یہ تجویز مسترد کر دی کیونکہ جب قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی تھیں اور مہنگائی کا بوجھ عوام کے سر ا پڑا تھا تو عوام نے صبر وتحمل اور برداشت کے ساتھ وہ مہنگائی کا بوجھ برداشت کیا اور آج جب قیمتوں میں کچھ کمی واقع ہوئی ہے تو اس کو اپنی اخلاقی سیاسی ذمہ داری سمجھتا ہوں کہ اس کمی کا ایک ایک روپیہ عوام کے قدموں میں نچھاور کیا جائےجہاں پر تیل کی قیمتوں میں کچھ کمی واقع ہوئی ہے وہیں حکومت نے دیگر ذرائع سے کچھ وسائل جمع کر کے اور مالیاتی نظم و ضبط کے ذریعے اس میں اپنا بھرپور حصہ ڈالا ہے کیونکہ گندم کی کٹائی شروع ہو چکی ہے اپنے محنتی کسان کے لیے لاگت کم کرنا انتہائی ضروری ہے اگر یہ نہ ہوا تو نہ صرف کسان کی محنت ضائع ہو جائے گی بلکہ عام شہری کے لئے بھی کھانے پینے کی اشیاء بھی مہنگی ہو جائیں گی لہذا ڈیزل کی قیمت میں طور پر 135 روپے فی لیٹر کی کمی کا اعلان کرتا ہوں ڈیزل کی قیمت جو اس وقت 520 روپے فی لیٹر ہے وہ آج رات 12 بجے کم ہو کر 385 روپے فی لیٹر میں دستیاب ہوگا جس سے نہ صرف زرعی شعبے میں آسانی پیدا ہوگی بلکہ عام آدمی کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں بھی خاطرخواہ کمی آئے گی، اسی طریقے سے پٹرول کی قیمت میں پچھلے ہفتے 80 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا گیا تھا اس میں آج مزید 12 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کر رہا ہوں اور اس طرح پٹرول کی قیمت آج رات 12 بجے سے 378 روپے سے کم ہو کے 366 روپے فی لٹر ہو جائے گی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ پچھلے جمعہ کو انہوں نے چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے بھائیوں اور بہنوں کے لیے صوبائی حکومتوں کے مشورے اور ان کے بھرپور تعاون کے ساتھ جس ٹارگٹڈ سبسڈی کا اعلان کیا تھا چاہے وہ موٹر سائیکل، پبلک ٹرانسپورٹ یا مال بردار گاڑیاں ہوں ان کے لئے وہ سبسڈی بدستور جاری رہے گی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ اللّہ تعالی کو منظور ہوا تو ہم ایک باوقار ، مضبوط اور ترقی کی طرف تیزی سے منازل طے کرتا ہوا پاکستان آنے والی نسلوں کے حوالے کریں گے۔











