کمسٹیک اور ڈبلیو یو اے سی ڈی کے اشتراک سے اکیڈمک فورم کا آغاز مشترکہ سیکرٹریٹ قائم

8

اسلام آباد، 4 مئی (اے پی پی): او آئی سی کامسٹیک اور جامعات کی عالمی تنظیم برائے کمیونٹی ڈویلپمنٹ کے اشتراک سے اکیڈمک لیڈرز فورم کا آغاز کامسٹیک سیکرٹریٹ اسلام آباد میں ہو گیا جبکہ جامعات کے درمیان تعاون کے فروغ کیلئے مشترکہ سیکرٹریٹ بھی قائم کر دیا گیا۔

فورم میں فلپائن بنگلہ دیش انڈونیشیا ملائیشیا اور آسٹریلیا کی جامعات پر مشتمل 13 رکنی بین الاقوامی وفد شریک ہے۔ فورم کا مقصد او آئی سی رکن ممالک کے درمیان اعلیٰ تعلیم سائنسی تحقیق فیلوشپ پروگرامز اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا اور جامعات کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے مشترکہ حکمت عملی تیار کرنا ہے۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کوآرڈینیٹر جنرل کامسٹیک پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے کہا کہ تیزی سے بدلتی عالمی صورتحال اور معلومات کے غلط استعمال کے دور میں جامعات کا کردار مزید اہم ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فورم تعلیمی اداروں کے درمیان روابط کو مضبوط بنانے اور طلبہ کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں مدد دے گا جس سے فیکلٹی و طلبہ ایکسچینج پروگرام تحقیقی مقالہ جات کا تبادلہ اور مشترکہ منصوبے شروع ہوں گے۔

ڈبلیو یو اے سی ڈی کی ایگزیکٹو سیکرٹری پروفیسر ڈاکٹر نی نیومان تری پسپاننگسہ نے کہا کہ اس تعاون سے او آئی سی ممالک بالخصوص پاکستان کی جامعات کیلئے تحقیق تربیت اور اشتراک کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ڈبلیو یو اے سی ڈی کے صدر اور جامعہ ائرلنگا انڈونیشیا کے ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر محمد مدیان نے کہا کہ کامسٹیک کے ساتھ اشتراک تعلیمی روابط کو وسعت دے گا اور مشترکہ تحقیق اکیڈمک تبادلوں اور استعداد کار میں اضافے کا ذریعہ بنے گا۔

پاکستان میں انڈونیشیا کے نائب سفیر رحمت ہندیارتا کسوما نے کہا کہ تعلیم دو طرفہ تعلقات کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی و سائنسی روابط مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کامسٹیک کے ساتھ مل کر وائرولوجی اور ویکسین فیلوشپس کے تین بیجز مکمل کیے گئے ہیں جبکہ چوتھا بیج جلد شروع کیا جائے گا۔

کمسٹیک کے اعزازی مشیر ڈاکٹر شاہد محمود نے کہا کہ آنے والا دور مصنوعی ذہانت کا ہے تاہم پائیدار اور متوازن ترقی کیلئے کمیونٹی ڈیولپمنٹ ناگزیر ہے۔

فورم کے مختلف سیشنز میں تحقیق جدت کمرشلائزیشن اور عالمی شراکت داری کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ پاکستانی جامعات نے تعاون کے مختلف شعبوں پر تجاویز پیش کیں۔ مشترکہ سیکرٹریٹ ان سرگرمیوں کیلئے رابطہ مرکز کے طور پر کام کرے گا۔