لاہور، 05 مئی(اے پی پی): ڈائریکٹر جنرل پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس برگیڈئیر مظہر اقبال کا کنیرڈ کالج فار ویمن یونیورسٹی کا دورہ کیااور پرنسپل ڈاکٹر ارم انجم اور فیکلٹی ممبران سے ملاقات بھی کی۔اینٹی ڈرگ اینڈ ٹوبیکو سوسائٹی کے زیر اہتمام ” یوتھ اگینسٹ ڈرگز” سیمینار میں بطور گیسٹ سییکر شرکت کی۔ڈائریکٹر جنرل پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس برگیڈئیر مظہر اقبال نے سیمینار میں طلبہ سے خطاب میں کہا کہ پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس منشیات کے خلاف قوانین کے نفاذ اور آگاہی کی خدمات سر انجام دے رہی ہے۔فارمیسز میں نشہ اور ادویات کی فروخت کے لیے قانون سازی کی جا رہی ہے اور نکوٹین پاوچز کی فروخت پر بھی پابندی عائد کی جائے گی۔پنجاب کے تمام ڈویژنز میں دفاتر قائم کر چکے ہیں ۔برگیڈئیر مظہر اقبال نے کہا کہ سینکڑوں کالجز اور یونیورسٹیوں کا دورہ کر چکے ہیں کسی کالج یا یونیورسٹی کی جانب سے نشان دہی نہیں کی گئی کے وہاں ڈرگز استعمال ہو رہی ہیں۔طلبہ اور انتظامیہ اپنے اداروں میں ڈرگز کی ترسیل یا استعمال سے آگاہ کریں اور والدین کو ان کے بچوں کی غیر صحت مندانہ سرگرمیوں سے آگاہ کرنا شکایت نہیں۔اپنے ماحول میں کسی ساتھی کو ڈرگز کے استعمال یا فراہمی میں ملوث دیکھیں تو اطلاع کریں ۔منشیات فروشوں سے متعلق اطلاع اداروں کی ساکھ خراب نہیں کرتی بلکہ منشیات کا استعمال تعلیمی اداروں کی ساخت کو متاثر کرتا ہے منشیات کے پھیلاؤ کے لیے صرف ریاست کو ذمہ دار ٹھہرانے کی بجائے اپنی زمہ داری پوری کریں۔سپلائی کا تعلق ڈیمانڈ سے ہے ڈیمانڈ نہیں ہو گی تو سپلائی بھی نہیں ہو گی ڈرگز کے استعمال سے انکار کریں ۔ریاست کا کام قانون سازی اور اس پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔پنجاب ایک فنکشنل صوبہ ہے یہاں تمام ادارے اپنا کام کر رہے ہیں پاکستان کے قانون میں منشیات سے تحفظ کے لیے صوبائی سطح پر قانون سازی کی گنجائش موجود ہے۔پنجاب کاونٹر نارکوٹکس فورس اسمبلی سے منظور شدہ پنجاب کنٹرول آف نارکوٹکس سنسٹینس ایکٹ 2025 ء کے تحت کام کر رہی ہے ۔پاکستان میں 45 فیصد نشے کے عادی افراد کا تعلق پنجاب سے ہے نشے کے عادی افراد میں زیادہ تر تعداد 15 سے 34 سال درمیان ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ یہ کہنا درست نہیں کہ صرف غریب اور جاہل طبقہ منشیات کا شکار ہے جبکہ پاکستان میں نشے کے عادی افراد میں بڑی تعداد طلبہ کی ہے۔پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس پچھلے سات ماہ میں منشیات فروشوں کے خلاف 1140 آپریشنز کر چکی ہے اور منشیات فروشوں سے 2.34 بلین روپے مالیت کی منشیات قبضے میں لی جا چکی ہیں ڈی این ایف کی کامیاب کاروائیاں منشیات فروشوں کے بڑے نیٹ ورکس توڑ رہی ہیں آپریشنز کے دوران فورس کے جوانوں کو فائرنگ سمیت متعدد خطرات سے نمٹنا پڑتا ہے ۔طلبہ منشیات کے خلاف آگاہی مہم اور منشیات کے عادی نوجوانوں کی حوصلہ شکنی میں کردار ادا کریں ۔











