لاہور۔9مئی (اے پی پی):مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد نے کہا ہے کہ حکومت معیشت کی ڈیجیٹلائزیشن،ٹیکس نظام میں بہتری، مالیاتی شفافیت اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں کے ذریعے اقتصادی ترقی کے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے ، اکاؤنٹنٹس جدید معاشی تقاضوں کے مطابق ادارہ جاتی کارکردگی بہتر بنانے،شفافیت بڑھانے اور پالیسی سازی میں معاونت فراہم کر سکتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو یہاں مقامی ہوٹل میں ساوتھ ایشیئن فیڈریشن آف اکاؤنٹنٹس (سافا) اور انسٹیٹیوٹ آف کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (آئی سی ایم اے)کے اشتراک سے منعقدہ دو روزہ سافا انٹرنیشنل سمٹ 2026 سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔سمٹ میں صدر’’ سافا ‘‘ہمایوں کبیر، صدر آئی سی ایم اے عظیم حسین صدیقی، نائب صدر آئی سی ایم اے و چیئرمین آرگنائزنگ کمیٹی سافا انٹرنیشنل سمٹ محمد یاسین سمیت بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال اور دیگر رکن ممالک سے تعلق رکھنے والے ممتاز ماہرینِ مالیات، پالیسی سازوں، ریگولیٹرز، کارپوریٹ رہنماؤں نے شرکت کی ۔ مشیر خزانہ خرم شہزاد نے کہا کہ دنیا اس وقت تیز رفتار معاشی،تکنیکی اور جغرافیائی تبدیلیوں کے دور سے گزر رہی ہے جہاں مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت، عالمی سیاسی تبدیلیاں اور بدلتی ہوئی سماجی ترجیحات عالمی مالیاتی نظام کو نئی شکل دے رہی ہیں۔ایسے حالات میں اکاؤنٹنگ اور فنانس کے شعبے کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج کے اکاؤنٹنگ پروفیشنلز صرف مالیاتی ریکارڈ مرتب کرنے تک محدود نہیں بلکہ وہ ادارہ جاتی قیادت کے مشیر،اسٹریٹجک پارٹنرز اور فیصلہ سازی،خطرات کے انتظام،کارکردگی کے تجزیے اور طویل المدتی منصوبہ بندی میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ شفافیت اور احتساب کے اس دور میں اکاؤنٹنسی کا شعبہ معاشی استحکام کی بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ سرمایہ کار،حکومتیں، ضابطہ کار ادارے اور عوام درست اور قابل اعتماد مالیاتی معلومات پر انحصار کرتے ہیں۔اس لیے اکاؤنٹنگ پروفیشنلز پر لازم ہے کہ وہ دیانتداری، پیشہ ورانہ اخلاقیات اور شفافیت کے اعلی ترین معیار کو برقرار رکھیں۔ خرم شہزاد نے کانفرنس کے موضوع کو بروقت اور مستقبل شناس قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا جب ڈیجیٹل اور پائیدار معیشت کی طرف بڑھ رہی ہے تو اکاؤنٹنسی کے شعبے کو بھی نئی ٹیکنالوجیز اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت، بلاک چین، کلاڈ کمپیوٹنگ اور اعداد و شمار کے تجزیاتی نظام ،مالیاتی معلومات کی تیاری، تجزیے اور نگرانی کے طریقہ کار میں انقلابی تبدیلیاں لا رہے ہیں لہذا اکاؤنٹنٹس کو اپنی پیشہ ورانہ مہارتوں میں مسلسل اضافہ اور ادارہ جاتی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہوگا تاکہ مستقبل کے چیلنجز کا موثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان اس وقت ایک اہم معاشی مرحلے سے گزر رہا ہے اور حکومت پائیدار اقتصادی ترقی،مالیاتی نظم و ضبط،سرمایہ کاری کے فروغ، برآمدات میں اضافے اور مضبوط ادارہ جاتی ڈھانچے کے قیام کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں حکومت عوامی مالیاتی نظم و نسق،ٹیکس نظام میں بہتری، موثر نفاذ، کارپوریٹ نظم و نسق اور احتسابی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے اصلاحات کے ایجنڈے پر ثابت قدمی سے عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا کو اس وقت اقتصادی سست روی، موسمیاتی تبدیلی،توانائی بحران، قرضوں کے دبائو اور عالمی مالیاتی غیر یقینی صورتحال جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے،جن سے نمٹنے کے لیے مضبوط مالیاتی نظم و نسق،شفاف احتسابی نظام اور موثر عوامی مالیاتی انتظام ناگزیر ہو چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں اکاؤنٹنسی کا پیشہ ریاستی اداروں،نجی شعبے اور عوام کے درمیان اعتماد سازی میں بنیادی کردار ادا کر سکتا ہے جبکہ پیشہ ور اکاؤنٹنٹس اور مالیاتی ماہرین معاشی نظم و نسق کے ساتھ ساتھ سفارتکاری،پالیسی سازی اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ میں بھی موثر کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔انہوں نے نوجوانوں کو پاکستان اور جنوبی ایشیا ءکا سب سے قیمتی اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں معیاری تعلیم،جدید مہارتوں،اخلاقی اقدار اور مسلسل سیکھنے کے مواقع فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ وہ عالمی معیشت میں موثر کردار ادا کر سکیں۔خرم شہزاد نے کہا کہ سافا انٹرنیشنل سمٹ جیسے فورمز خطے کے ممالک کو ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے، بہترین مالیاتی اور انتظامی پالیسیوں کے تبادلے اور علاقائی تعاون کے فروغ کا موثر موقع فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں جامع اور پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے شفافیت،بہتر طرز حکمرانی اور ادارہ جاتی مضبوطی کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔انہوں نے آئی سی ایم اے پاکستان کو 75 سال مکمل ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ سمٹ میں ہونے والی گفتگو اور سفارشات خطے بھر میں اکاؤنٹنگ اور مالیاتی شعبے کی ترقی میں معاون ثابت ہوں گی۔انہوں نے کہاکہ انسٹی ٹیوٹ آف کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (آئی سی ایم اے) نے گزشتہ75 برسوں کے دوران پیشہ ورانہ معیار کے فروغ،ادارہ جاتی استعداد کار میں اضافے اور قومی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے دیگر مقررین نے زور دیا کہ دنیا تیزی سے مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور خودکار مالیاتی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے،اس لیے اکاؤنٹنسی کے شعبے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل کی معیشت میں ڈیجیٹل تبدیلی،اعداد و شمار کے تجزیاتی نظام،پائیدار کاروباری ماڈلز،ماحول دوست معاشی پالیسیوں اور شفاف مالیاتی نظام کی اہمیت مزید بڑھ جائے گی۔سمٹ کے دوران علاقائی معاشی انضمام، عوامی شعبے کے نظم و نسق،ٹیکنالوجی پر مبنی مالیاتی حکمتِ عملی،ماحولیاتی و سماجی ذمہ داریوں،پائیدار اقتصادی ماڈلز اور بدلتی ہوئی دنیا میں اعتماد کی بحالی سمیت مختلف موضوعات پر کلیدی سیشنز اور پینل مباحثے بھی منعقد کئے گئے۔پاکستان اور بیرونِ ملک سے آئے ہوئے ماہرینِ مالیات،پالیسی سازوں اور کارپوریٹ نمائندوں نے مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل مالیات، حکمرانی میں اصلاحات، عوامی مالیاتی نظم و نسق اور اکاونٹنگ کے مستقبل کے حوالے سے اپنے خیالات اور تجاویز پیش کیں۔











