نیویارک،16 مئی ( اے پی پی): پاکستان نے فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت، آزادی اور باوقار ریاست کے قیام کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ نکبہ صرف ایک تاریخی سانحہ نہیں بلکہ آج بھی جاری ایک تلخ حقیقت ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے فلسطین میں یومِ نکبہ کی مناسبت سے سی ای آئی آر پی پی (CEIRPP) کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اٹھہتر برس قبل سات لاکھ پچاس ہزار سے زائد فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، ان کے شہروں پر قبضہ کر لیا گیا اور ان کی شناخت مٹانے کی کوشش کی گئی، جسے تاریخ میں “نکبہ” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینی آج بھی قبضے، جبری بے دخلی، بنیادی حقوق سے محرومی اور جلاوطنی کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ قرارداد 194 کے تحت تسلیم شدہ حقِ واپسی پر آج تک عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ ان کے بقول، لاکھوں فلسطینی اب بھی مہاجر کیمپوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جو طویل بے وطنی اور اجتماعی اذیت کی علامت بن چکے ہیں۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے غزہ کی صورتحال کو نکبہ کا جدید اور بدترین مظہر قرار دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو برسوں سے جاری اسرائیلی حملوں میں ستر ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، جبکہ غزہ کی بیشتر آبادی بارہا جبری بے دخلی کا شکار ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ فلسطینی مہاجرین کے لیے قائم ادارہ یو این آر ڈبلیو اے (UNRWA) لاکھوں فلسطینیوں کے لیے ناگزیر حیثیت رکھتا ہے اور عالمی برادری پر لازم ہے کہ وہ اس ادارے کی سیاسی اور مالی معاونت جاری رکھے۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ نکبہ کا خاتمہ صرف انصاف، احتساب اور اسرائیلی قبضے کے خاتمے سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کی منصفانہ جدوجہد، حقِ خودارادیت اور آزادی کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں منصفانہ اور پائیدار امن کے لیے 1967ء سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد، خودمختار اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کا قیام ناگزیر ہے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔











