اسلام آباد،14جون(اے پی پی ): پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی عبدالقادر گیلانی نے وفاقی بجٹ 2026-27 پر بحث کے دوران کہا ہے کہ ضلع ملتان میں ورٹیکل ایگریکلچر پالیسی متعارف کرنی چاہیے تاکہ جدید زرعی طریقوں کو فروغ دیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ بجٹ میں کھاد کی مد میں 407 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی ہے، تاہم چھوٹا کسان اور عام زمیندار اس کے حقیقی فائدے سے محروم رہ جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سبسڈی کا نظام شفاف بنانے کی ضرورت ہے تاکہ مڈل مین اس کا فائدہ نہ اٹھا سکے۔
عبدالقادر گیلانی نے کہا کہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد زرعی سبسڈی صوبوں کو ملنی چاہیے۔ انہوں نے تجویز دی کہ کھاد پر دی جانے والی سبسڈی کے لیے کسان کارڈ جاری کیا جائے تاکہ براہ راست کاشتکار کو فائدہ پہنچے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کاشتکاروں کو خودکفیل بنانے کے لیے انہیں مزید قرضوں کے بوجھ میں ڈالنے کے بجائے سبسڈی دی جائے۔ ٹیوب ویلوں کی سولرائزیشن کے لیے قرضوں کے بجائے سبسڈی دی جائے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسٹیل انڈسٹری کو بجلی کے بلوں اور سیلز ٹیکس کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے، جس پر نظرثانی کی ضرورت ہے تاکہ صنعتی شعبہ مزید مضبوط ہو سکے۔











