عالمی امن کیلئے پاکستان کا کردار قابلِ ستائش ، سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو مزید ریلیف دیا جاناچاہیے، راجہ پرویز اشرف

8

اسلام آباد ،19جون(اے پی پی):قومی اسمبلی میں وفاقی بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے سابق وزیراعظم اور رکنِ قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ حالیہ بین الاقوامی کشیدگی کے دوران دنیا ایک غیر یقینی صورتحال سے دوچار تھی اور بظاہر تنازع میں شامل فریقین کی جانب سے پسپائی کا کوئی امکان دکھائی نہیں دے رہا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں بڑے پیمانے پر تباہی کا خدشہ موجود تھا جبکہ عالمی معیشت بھی شدید دباؤ کا شکار تھی۔ پاکستان نے دانشمندانہ سفارتکاری اور موثر رابطہ کاری کے ذریعے امن کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر ہوا۔

راجہ پرویز اشرف نے وزیراعظم، صدر مملکت، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اور پوری پاکستانی ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی صرف چند شخصیات کی نہیں بلکہ پاکستان کے 25 کروڑ عوام کے وقار اور عزت کا مظہر ہے۔

راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ عوامی مشکلات اور احتجاجی تحریکوں کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے کیونکہ مہنگائی اور معاشی دباؤ ہر پاکستانی کو متاثر کرتے ہیں، چاہے وہ حکومت میں ہو یا اپوزیشن میں۔

انہوں نے آزاد کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات اور حکومت کے ساتھ مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی نے نمائندوں سے تفصیلی ملاقات کی، ان کے مؤقف کو غور سے سنا اور انہیں مکمل موقع دیا کہ وہ اپنے مطالبات پیش کریں۔

راجہ پرویز اشرف نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران کمیٹی کے 80 فیصد سے زائد مطالبات اصولی طور پر تسلیم کر لیے گئے تھے جبکہ متعدد مسائل کے فوری حل پر اتفاق بھی ہوا۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے سے متعلق کئی مطالبات، جن میں ہیلتھ کارڈ کی فراہمی اور ہسپتالوں میں جدید طبی سہولیات کیدستیابی شامل تھی، جائز قرار دیے گئے اور ان پر پیش رفت کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی کی جانب سے یہ تجویز بھی دی گئی تھی کہ احتجاجی کال واپس لے لی جائے تاکہ باقی معاملات پر خوشگوار ماحول میں مذاکرات آگے بڑھ سکیں، تاہم اس کے باوجود حکومت مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنے کے لیے تیار تھی۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ جب آزاد کشمیر میں بجلی کے نرخوں سے متعلق مسئلہ سامنے آیا تو صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے فوری طور پر کشمیری عوام کو ریلیف دینے کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام پاکستان کے اپنے بہن بھائی ہیں اور ان کے مسائل کو حل کرنا قومی ذمہ داری ہے۔

راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ سب سے خوش آئند بات یہ تھی کہ پاکستان کے کسی حصے سے اس فیصلے پر اعتراض سامنے نہیں آیا بلکہ پورے ملک کے عوام نے کشمیری بھائیوں کے لیے خیرسگالی اور محبت کا اظہار کیا۔ ان کے بقول یہ رویہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی قوم اور کشمیری عوام کے درمیان رشتہ محض سیاسی نہیں بلکہ محبت، قربت اور یکجہتی پر مبنی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کشمیر کے ساتھ وابستگی اور حمایت آج بھی اسی قوت کے ساتھ قائم ہے اور کشمیری عوام کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔

بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر حکومت کی خواہش ہوتی ہے کہ عوام کی مشکلات کم ہوں اور انہیں زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جائے، تاہم موجودہ عالمی اور علاقائی حالات کے تناظر میں ایسا بجٹ پیش کرنا ممکن نہیں جس میں ہر طبقے کی تمام توقعات اور خواہشات پوری کی جا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک کو وسائل اور اخراجات کے درمیان بڑے فرق کا سامنا ہے جبکہ عالمی تنازعات، یوکرین جنگ، مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور دیگر عوامل نے معیشت پر اضافی دباؤ ڈالا ہے۔ اس کے باوجود حکومت نے دستیاب وسائل کے مطابق متوازن بجٹ پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ اپوزیشن کا جمہوری نظام میں اہم کردار ہوتا ہے اور تنقید کرنا اس کا حق ہے، تاہم تنقید کے ساتھ تعمیری تجاویز بھی پیش کی جانی چاہئیں تاکہ مسائل کے حل میں معاونت مل سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ قومی معاملات پر تمام سیاسی قوتوں کو مل کر ملک کی بہتری اور عوامی فلاح کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔

سابق وزیراعظم اور رکنِ قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ معاشی دباؤ کے اثرات سب سے زیادہ سرکاری ملازمین، پنشنرز اور زرعی شعبے سے وابستہ افراد پر پڑتے ہیں، اس لیے ان طبقات کو خصوصی ریلیف فراہم کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین اور پنشنرز کی آمدن محدود ہوتی ہے اور ان کا انحصار تنخواہوں اور پنشن پر ہوتا ہے، جبکہ زراعت سے وابستہ افراد بھی پہلے ہی مختلف معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان طبقات کی ضروریات اور اخراجات اکثر ان کی آمدن سے زیادہ ہوتے ہیں، جس کے باعث مہنگائی اور افراطِ زر کے اثرات فوری طور پر ان پر مرتب ہوتے ہیں۔

راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ کاروباری طبقہ بھی مشکلات کا سامنا کرتا ہے، تاہم مہنگائی کی صورت میں وہ اپنی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر سکتا ہے، جبکہ اس کا اصل بوجھ بالآخر عام صارف پر منتقل ہو جاتا ہے۔

انہوں نے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ریلیف دینے کی کوشش کی ہے، لیکن موجودہ افراطِ زر اور مہنگائی کی شرح کے مقابلے میں یہ اضافہ ناکافی محسوس ہوتا ہے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت (2008ء تا 2013ء) میں بھی معیشت شدید دباؤ کا شکار تھی، تاہم عوامی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے پانچ سال کے دوران سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں مجموعی طور پر 100 فیصد اضافہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کا مقصد افراطِ زر کے منفی اثرات سے ملازمین اور پنشنرز کو تحفظ فراہم کرنا تھا۔

انہوں نے زور دیا کہ موجودہ معاشی حالات میں بھی تنخواہ دار طبقے اور پنشنرز کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے مزید اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ ان کی قوتِ خرید میں بہتری لائی جا سکے۔

راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ ملک کو درپیش معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حکومت اور اپوزیشن کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ یہ سنجیدگی سے غور کرنے کا وقت ہے کہ ملک کو قرضوں کے بوجھ سے کیسے نجات دلائی جائے، کیونکہ مسلسل قرضوں پر انحصار کے ذریعے نہ کوئی ملک اور نہ ہی کوئی گھر مستقل بنیادوں پر چلایا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقروض قوموں کی خودمختاری، وقار اور بین الاقوامی حیثیت بھی متاثر ہوتی ہے۔

راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں کو اس بات کو قومی ہدف بنانا چاہیے کہ ملک کے وسائل میں اضافہ کیسے کیا جائے، ٹیکس نیٹ کو کس طرح وسعت دی جائے اور معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے عوام کو کس طرح قومی ترقی کے عمل میں شریک کیا جائے۔

انہوں نے جنوبی کوریا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایک وقت میں وہ بھی شدید قرضوں کے بوجھ تلے دب گیا تھا، تاہم وہاں کی قیادت نے پوری قوم کو اعتماد میں لیا اور قومی سطح پر قربانی اور یکجہتی کے جذبے کے ذریعے معاشی بحران پر قابو پایا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بھی تمام سیاسی قوتوں کو مل بیٹھ کر قومی معیشت کی بہتری کے لیے قابلِ عمل اور دیرپا حل تلاش کرنا ہوں گے۔

سابق وزیراعظم نے زور دیا کہ قومی مسائل کےحل کے لیے اجتماعی سوچ اور قومی اتفاقِ رائے ناگزیر ہے، اور اگر تمام فریقین خلوصِ نیت سے مل کر کام کریں تو ملک کو معاشی مشکلات سے نکالنے کا راستہ ضرور تلاش کیا جا سکتا ہے۔