مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی میں شرکت کے لیے 337 بھارتی سکھ یاتریوں کا دوسرا جتھا پاکستان پہنچ گیا

4

لاہور، 21 جون (اے پی پی): مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی کی تقریبات میں شرکت کے لیے 337 بھارتی سکھ یاتریوں پر مشتمل دوسرا جتھا واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان پہنچ گیا، جہاں متروکہ وقف املاک بورڈ، پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی (PSGPC) اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔
واہگہ بارڈر پر چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ قمرالزمان، ایڈیشنل سیکرٹری شرائنز ناصر مشتاق، پردھان پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی سردار رمیش سنگھ اروڑہ، ڈپٹی سیکرٹری شرائنز فراز عباس اور شرائنز عملے نے یاتریوں کو خوش آمدید کہا اور انہیں پھولوں کے ہار پہنائے۔
اس موقع پر سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے کہا کہ متروکہ وقف املاک بورڈ اور پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی سکھ یاتریوں کے استقبال اور خدمت کے لیے ہمہ وقت موجود رہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یاتریوں کے قیام و طعام، رہائش، ٹرانسپورٹ، لنگر اور دیگر سہولیات کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس بار سکھ نوجوان نسل کی بڑی تعداد بھی یاترا کے لیے پاکستان آئی ہے، جو اپنے مذہبی ورثے سے گہری وابستگی کا ثبوت ہے۔
چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ قمرالزمان نے کہا کہ پاکستان مذہبی سیاحت اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکھ یاتریوں کو پاکستان میں محفوظ، پُرامن اور دوستانہ ماحول فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ متروکہ وقف املاک بورڈ اقلیتوں کی عبادت گاہوں کے تحفظ، بحالی اور ترقی کے لیے بھرپور اقدامات کر رہا ہے۔
ایڈیشنل سیکرٹری شرائنز ناصر مشتاق نے بتایا کہ یاتریوں کے قافلے کے لیے خصوصی سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ واہگہ بارڈر پر آمد کے موقع پر لنگر کا خصوصی اہتمام کیا گیا جبکہ ریسکیو 1122 کی گاڑیاں اور ایمبولینسز بھی قافلے کے ہمراہ موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یاتریوں کو دوران سفر طبی امداد، منرل واٹر اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور متروکہ وقف املاک بورڈ و ضلعی انتظامیہ کی جانب سے فول پروف سکیورٹی یقینی بنائی گئی ہے۔
بھارت سے آنے والے وفود اور دہلی سکھ گوردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے نمائندوں نے شاندار استقبال اور بہترین انتظامات پر حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ وفد کے رکن خوشویندر سنگھ بھاٹیہ نے کہا کہ سکھ یاتریوں کے لیے مثالی انتظامات کیے گئے ہیں اور مذہبی آزادی و بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ میں پاکستان کا کردار قابلِ ستائش ہے۔
جتھہ لیڈرز اور شرومنی گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے نمائندوں نے کہا کہ سکھ یاتری اپنے مقدس مقامات کی یاترا کے لیے انتہائی پُرجوش ہیں جبکہ واہگہ بارڈر پر پرتپاک استقبال نے ان کے دل جیت لیے ہیں۔ وفد کے رکن ہروندر سنگھ نے کہا کہ پاکستان سکھ برادری کے مذہبی مقامات کے تحفظ، خدمت اور ترقی کے لیے بھرپور اقدامات کر رہا ہے جو قابلِ تعریف ہیں۔
واضح رہے کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی کی مرکزی تقریبات 29 جون کو گردوارہ ڈیرہ صاحب لاہور میں منعقد ہوں گی، جن میں پاکستان اور بیرون ملک سے آنے والے ہزاروں سکھ یاتری شرکت کریں گے۔