آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ اورمالیاتی بل 2027ء پر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ ومحصولات کی  سفارشات و تجاریز پر مبنی رپورٹ ایوان میں پیش کر دی گئی

4

اسلام آباد، 22 جون (اے پی پی ): آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ اورمالیاتی بل 2027ء پر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ ومحصولات کی  سفارشات و تجاریز پر مبنی رپورٹ ایوان میں پیش کر دی گئی۔ پیرکوقومی اسمبلی کے اجلاس میں کمیٹی کے چیئرمین سید نوید قمرنے کمیٹی کی رپورٹ ایوان میں پیش کرنے کی اجازت چاہی، اجازت ملنے پر انہوں نے رپورٹ ایوان میں پیش کر دی۔ سید نوید قمر نے کہا کہ کمیٹی نے طویل مشاورت، تفصیلی غور و خوض اور مختلف متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے بعد فنانس بل سے متعلق اپنی سفارشات کو حتمی شکل دی ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اختلافی نوٹ جمع کرانے والے ارکان کے اٹھائے گئے نکات پر بجٹ کی منظوری کے بعد بھی غور جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے حکومتی تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مختلف آرا  رکھنے والے ارکان کے اختلافی نوٹس رپورٹ کا حصہ بنا دیئے گئے ہیں تاکہ آئندہ قانون سازی کے دوران تمام نقطہ ہائے نظر کو مدنظر رکھا جا سکے۔ سید نوید قمر نے اپوزیشن ارکان کی کمیٹی اجلاسوں میں عدم شرکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ شریک ہوتے تو رپورٹ مزید جامع اور مضبوط بن سکتی تھی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں اہم معاشی قانون سازی پر ہونے والے اجلاسوں میں تمام سیاسی جماعتیں بھرپور شرکت کریں گی تاکہ مختلف آرا کو پالیسی سازی میں مناسب جگہ مل سکے۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً  17 سے 18 صفحات پر مشتمل کمیٹی کی رپورٹ میں آٹو موبائل،  موبائل فون اور دیگر صنعتوں سے متعلق متعدد سفارشات شامل ہیں، جنہوں نے حکومت کی مجوزہ ٹیکس اور ڈیجیٹلائزیشن پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ فیس لیس کسٹمز اسسمنٹ اور دیگر خود کار نظام شفافیت اور کارکردگی بہتر بنانے کیلئے ضروری ہیں تاہم پاکستان کو پائیدار مالیاتی نظام کیلئے اپنے ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب میں نمایاں اضافہ کرنا ہوگا تاکہ قرضوں اور بجٹ خسارے پر انحصار کم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مستقل طور پر قرضوں اور خساروں کے سہارے نہیں چل سکتی۔ ریاستی اخراجات کا زیادہ سے زیادہ انحصار منصفانہ اور موثر طریقے سے وصول کیے جانے والے ٹیکسوں پر ہونا چاہئے۔ چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ ٹیکس اصلاحات کے ساتھ ایسے حفاظتی اقدامات بھی ضروری ہیں جو ٹیکس حکام کی جانب سے اختیارات کے ممکنہ غلط استعمال کو روک سکیں، جاری اصلاحات کا بنیادی مقصد صوابدیدی اختیارات میں کمی، شفافیت میں اضافہ اور ٹیکس نظام کو زیادہ جامع بنانا ہے۔انہوں نے ایف بی آر کو ٹیکس دہندگان کے بینک اکاؤنٹس تک براہ راست رسائی دینے کی مجوزہ شق کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ کمیٹی نے اسے اپنی اصل شکل میں مسترد کر دیا۔ اس کے بجائے سفارش کی گئی کہ اگر کسی معاملے میں بینکنگ معلومات درکار ہوں تو ان تک رسائی سٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذریعے اور صرف کیس ٹوکیس کی بنیاد پر، مناسب جواز کی موجودگی میں حاصل کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی ٹیکس وصولی اور تعمیل کو بہتر بنانے کے اقدامات کے ساتھ ساتھ شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو بھی برابر اہمیت دیتی ہے۔سید نوید قمر نے مزید کہا کہ وقت آگیا ہے کہ ودہولڈنگ اور ایڈوانس ٹیکسوں پر ضرورت سے زیادہ انحصار بتدریج کم کیا جائے کیونکہ ٹیکس کا بوجھ صرف انہی افراد پر ہونا چاہئے جو واقعی ٹیکس ادا کرنے کے پابند ہیں، نہ کہ وسیع پیمانے پر کٹوتیوں کے ذریعے عام شہریوں اور کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی آئندہ بھی وزارت خزانہ کے ساتھ مل کر ٹیکس نظام میں بہتری اور بجٹ سے متعلق پارلیمانی نگرانی کو مزید موثر بنانے کے لیے کام جاری رکھے گی۔ سید نوید قمر نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ قائمہ کمیٹی نے پاکستان کے مالیاتی نظام کو بہتر بنانے میں موثر کردار ادا کیا ہے اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ بجٹ سازی کے عمل میں عوامی آرا اور مفادات کو شامل کرنے کی کوششیں آئندہ بھی جاری رکھی جائیں گی۔