آبادی میں تیز رفتار اضافہ پاکستان کے لیے ایک وجودی چیلنج ہے،محمد اورنگزیب

5

اسلام آباد، 15 جولائی (اے پی پی): وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ آبادی میں تیز رفتار اضافہ اور موسمیاتی تبدیلی پاکستان کو درپیش دو بڑے وجودی چیلنج ہیں، جن سے مؤثر انداز میں نمٹے بغیر ملک اپنی مکمل ترقی کی صلاحیت حاصل نہیں کر سکتا۔

عالمی یوم آبادی کے موقع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیشنل پاپولیشن اسٹیبلائزیشن پلان اور نیشنل پاپولیشن کونسل کا قیام اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے اہم پیش رفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کونسل میں وفاقی، صوبائی اور عسکری قیادت کی نمائندگی موجود ہے، جس سے اہداف کے حصول اور عملدرآمد میں مدد ملے گی۔

وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ آبادی میں اضافے سے ملکی وسائل اور بنیادی ڈھانچے پر دباؤ بڑھ رہا ہے، اس لیے واضح اہداف، کارکردگی کے اشاریے اور باقاعدہ جائزہ ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے مانع حمل ادویات پر عائد سیلز ٹیکس ختم کرنے سمیت بعض عملی اقدامات کیے ہیں تاکہ خاندانی منصوبہ بندی کی سہولیات تک رسائی بہتر بنائی جا سکے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں آبادی کو وسائل کی تقسیم کا بنیادی معیار بنائے جانے پر بھی نظرثانی کی ضرورت ہے کیونکہ موجودہ صورتحال پائیدار نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی بینک کے دس سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کے تحت آبادی سے متعلق اقدامات کے لیے سالانہ 60 سے 70 کروڑ ڈالر تک مالی معاونت دستیاب ہے۔ ان فنڈز کا بڑا حصہ بچیوں کی تعلیم اور بچوں میں غذائی کمی جیسے مسائل کے حل پر خرچ کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ بنگلہ دیش، ایران اور انڈونیشیا کے تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بچیوں کی تعلیم، خواتین کی معاشی سرگرمیوں میں شمولیت اور مذہبی رہنماؤں کا تعاون آبادی میں اضافے کی شرح کم کرنے کے لیے کلیدی عوامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نیشنل پاپولیشن کونسل اور وزارت صحت کی کوششوں کی مکمل حمایت جاری رکھے گی تاکہ آبادی میں توازن اور پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔