سلامتی کونسل میں بھارتی بیان پر پاکستان کا دوٹوک جواب، بھارت دہشت گردی کا سرپرست قرار

7

اسلام آباد، 23 جولائی (اے پی پی): اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارتی نمائندے کے بیان پر پاکستان کے حقِ جواب میں فرسٹ سیکرٹری انصار شاہ نے کہا ہے کہ بھارت حقائق کو مسخ کرنے اور زمینی حقائق کو غلط انداز میں پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے میں اسے معطل کرنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں اور بھارت کا یکطرفہ اقدام غیر قانونی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مشترکہ آبی وسائل کو سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا بین الاقوامی قانون اور قانونی معاہدوں کی سنگین خلاف ورزی ہے اور یہ علاقائی و عالمی امن کے لیے خطرہ ہے۔

انصار شاہ نے دہشت گردی سے متعلق بھارتی الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی سرپرستی اور مالی معاونت پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے حمایت یافتہ گروہوں نے پاکستان میں ہزاروں شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو نشانہ بنایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کا مرتکب ہے اور کشمیری عوام کو سلامتی کونسل کی قراردادوں کے برخلاف حقِ خودارادیت سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت کسی یکطرفہ اقدام سے تبدیل نہیں کی جا سکتی۔

پاکستانی مندوب نے مطالبہ کیا کہ بھارت اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔