سُتھرا پنجاب اتھارٹی کا پانچواں اجلاس، صفائی نظام اور ویسٹ ٹو ویلیو منصوبے کا جائزہ

3

لاہور، 5 ستمبر (اے پی پی): وزیر بلدیات پنجاب ذیشان رفیق کی زیر صدارت سُتھرا پنجاب اتھارٹی کا پانچواں اجلاس منعقد ہوا، جس میں اتھارٹی کے انتظامی و مالیاتی معاملات کا جائزہ لیا گیا۔ سیکرٹری بلدیات زید بن مقصود، ڈی جی سُتھرا پنجاب اتھارٹی عمر جاوید اور ٹیکنیکل ممبران چودھری جعفر اقبال، علی طارق، سائرہ افتخار اور مظفر اسلام نے اجلاس میں شرکت کی، جبکہ تمام ڈویژنل کمشنرز بذریعہ ویڈیو لنک شریک ہوئے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے کہا کہ سُتھرا پنجاب وزیراعلیٰ مریم نواز کا فلیگ شپ پراجیکٹ ہے اور آج پورے صوبے میں صفائی ستھرائی کا مربوط نیٹ ورک موجود ہے۔ ماضی میں شہروں میں برائے نام صفائی کا نیٹ ورک تھا جبکہ دیہی علاقوں میں سرے سے کوئی نظام موجود نہیں تھا۔ کئی دیہات میں قیام کے وقت سے ہی کوڑا کرکٹ ایک ہی جگہ جمع ہوتا چلا آ رہا تھا۔
انہوں نے کہا کہ سُتھرا پنجاب کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔ فوربز، بی بی سی، بلومبرگ سمیت چینی اور جاپانی میڈیا کے ادارے بھی سُتھرا پنجاب کی تعریف کر چکے ہیں۔ صوبے میں کہیں بھی جائیں، سُتھرا پنجاب کا فُٹ پرنٹ نظر آتا ہے۔
ذیشان رفیق نے بتایا کہ ایک لاکھ 80 ہزار ورکرز اور 40 ہزار گاڑیوں کی ڈیجیٹل نگرانی کا نظام قائم کیا گیا ہے۔ تاہم کوئی بھی نظام عوام کی شرکت کے بغیر سو فیصد نتائج نہیں دے سکتا، اس لیے شہریوں کی شمولیت بڑھانے کے لیے آگاہی مہم کو مزید مؤثر بنانا ضروری ہے۔
وزیر بلدیات نے کہا کہ سُتھرا پنجاب کو درپیش چیلنجز سے سیکھتے ہوئے آگے بڑھیں گے اور سروس ڈیلیوری کو مزید بہتر بنانا ہوگا۔ سُتھرا پنجاب کے تحت جمع ہونے والے ویسٹ کو بروئے کار لایا جا رہا ہے جبکہ ویسٹ ٹو ویلیو کے دوسرے مرحلے کا آغاز اور واضح سمت کا تعین ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جولائی 2026 سے اتھارٹی ماڈل نے کمپنی ماڈل کی جگہ لے لی ہے، جبکہ ہر ضلع میں ایجنسی بنانے سے مانیٹرنگ سسٹم میں مزید بہتری آ رہی ہے۔