اسلام آباد، 19 اکتوبر (اے پی پی): وزیراعظم محمد شہباز شریف نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے امور سے متعلق ہفتہ وار جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ایف بی آر میں جاری اصلاحات کی رفتار مزید تیز کرنے کی ہدایت کی ہے اور واضح کیا ہے کہ اصلاحات کا عمل ریاست کے وسیع تر مفاد میں ہے جسے ہر صورت منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔
اس موقع پر وزیراعظم نے بدعنوان عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اپنے رویے اور کارکردگی میں بہتری لانے والے افسران اور عملے کو اصلاح کا موقع دیا جائے گا، جبکہ بدعنوانی اور ناقص کارکردگی کے مرتکب افراد کے لیے ادارے میں کوئی جگہ نہیں ہوگی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ایف بی آر میں جاری اصلاحات کے ابتدائی نتائج حوصلہ افزا ہیں، تاہم ٹیکس گیپ پر قابو پانے کے لیے ادارے کی استعدادِ کار میں مسلسل بہتری لانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ٹیکس وصولی کے شعبوں میں فیس لیس (faceless) نظام کے نفاذ کو تیز کیا جائے اور اصلاحات کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کے فروغ، مؤثر تربیت، شفافیت اور خودکار جوابدہی پر خصوصی توجہ دی جائے۔
وزیراعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایف بی آر افسران کی یہ قومی ذمہ داری ہے کہ وہ قوم کی توقعات پر پورا اتریں۔اجلاس کے دوران ایف بی آر میں جاری ٹیکنالوجی، نظامِ کار اور افرادی قوت کے شعبوں میں اصلاحاتی پیشرفت پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ تین سال کے دوران اصلاحاتی اقدامات کے نتیجے میں ٹیکس گیپ کا تخمینہ جی ڈی پی کے 6 فیصد سے کم ہو کر 5 فیصد پر آ گیا ہے، جبکہ ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال سے افسران کے صوابدیدی اختیارات میں خاطر خواہ کمی آئی ہے۔ مزید برآں، نئے افسران کو لمس (LUMS) کے ذریعے تربیت فراہم کی جا رہی ہے جبکہ موجودہ افسران کے لیے ان سروس ٹریننگ پروگرامز جاری ہیں
افسران کی کارکردگی کی شفاف جانچ کے لیے ‘پیئر ریٹنگ سسٹم’ کا نفاذ بھی عمل میں لایا جا چکا ہے۔بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ایف بی آر کی آڈٹ کی صلاحیت بڑھانے کے لیے میرٹ کی بنیاد پر 957 تھرڈ پارٹی آڈیٹرز کو کنٹریکٹ پر تعیّنات کیا گیا ہے، جس سے آڈٹ کی استعدادِ کار میں چار گنا اضافہ ہوا ہے۔
ادارے کی وسیع پیمانے پر تکنیکی تنظیمِ نو کے تحت مہارت یافتہ افرادی قوت کی بھرتی اور کارکردگی سے منسلک مراعات کا نظام بھی نافذ کر دیا گیا ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، اٹارنی جنرل منصور اعوان اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔











