پشاور، 26فروری(اے پی پی):خیبرپختونخوا اسمبلی کے سپیکر مشتاق احمد غنی اور ڈپٹی سپیکر محمودجان سے پاکستان میں تعینات جرمنی کے سفیر برن ہارڈ شلگ ہیک نے بدھ کو یہاں ملاقات کی جس دوران دوطرفہ دلچسپی کے امور زیر بحث آئے۔
جرمن سفیر نے ملاقات میں سابقہ فاٹا اور خیبرپختونخوا میں ضم ہونے والے اضلاع میں پر امن انتخابات کروانے،وہاں کی عوام کو جمہوری سیاسی دھارے میں لانے اور وہاں سے دہشت گردی ختم کرنے پر مبارک باد دی۔
اس موقع پر سپیکر مشتاق غنی نے سابقہ فاٹا کے اضلاع کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس اس وقت قبائلی اضلاع سے 21کے قریب ممبران صوبائی اسمبلی منتخب ہوکر آچکے ہیں چونکہ قبائلی اضلاع دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن کا کردار رہا تھا اس لئے وہاں کا بنیادی ڈھانچہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے تنگی کے باوجود ان اضلاع کو فنڈز مہیاکئے جوکہ یقیناًناکافی ہیں اور اب بھی وہاں صحت، تعلیم، پولیس، سڑکوں کی تعمیر، روزگار اور کاروبار کی فراہمی جیسے شعبوں میں کام کرنیکی ضرورت ہے۔
سپیکر صوبائی اسمبلی مشتاق غنی نے یورپین یونین کے صوبائی پراجیکٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب تک برطانیہ یورپین یونین کا حصہ تھا تب تک صوبائی پراجیکٹ کے تحت ہماری اسمبلی کے ممبران اور سٹاف کو تربیتی پروگرام اور ورکشاپس وغیرہ کروائے گئے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہمارے بہت سارے نئے آنے والے ممبران اسمبلی کو سیکھنے کو کافی کچھ ملا۔ انہوں نے اس امر کا اظہار کیا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی جرمن پارلیمنٹ کے تجربے اور وہاں قانون سازی کے طریقہ کار کا مشاہدہ کرنے کی خواہش رکھتی ہے۔اس طرح دوطرفہ پارلیمانی سطح پر وفود کے تبادلوں سے باہمی ہم آہنگی کو فروغ ملے گا اور ہمارے ممبران صوبائی اسمبلی کو سیکھنے کیلئے بھی بہت کچھ میسر ہو جائے گا۔
افغانستان پاکستان تعلقات کے حوالے سے سپیکر مشتاق غنی نے کہا کہ پرامن افغانستان پاکستان کے مفاد میں ہے، ہماری سی پیک لائن مکمل ہونے پر اس کا فائدہ نہ صرف پاکستان کو ہوگا بلکہ افغانستان اور پاکستان کیلئے وسطی ایشیائی ممالک تک تجارتی روابط اور لین دین کے راستے بھی کھلیں گے۔
وی این ایس، پشاور











