کراچی شہر میں بد امنی کے ذمہ داران کا تعین کرنے کے لیے جتنی جے آئی ٹیز بنی ہیں انکی رپورٹس کو پبلک کیا جائے ؛وفاقی وزیر علی زیدی

122

راچی ،29مئی (اے پی پی ):وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی نے کہا ہے کہ کراچی شہر میں بد امنی کے ذمہ داران کا تعین کرنے کے لیے جتنی جے آئی ٹیز بنی ہیں ان کی مرتب کردہ رپورٹس کو پبلک کیا جائے۔

 سندھ ہائی کورٹ کے احاطے میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی کا کہنا تھا کہ جتنی بھی جوائنٹ انٹروگیشن رپورٹس بنی ہیں انہیں پبلک کیا جائے، ساتھ ہی حالیہ پیش آنے والے طیارہ حادثہ کیس کے لواحقین کو بھی انصاف فراہم کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ ہے میری بھی یہی رائے ہے کہ اسطرح کی رپورٹس پبلک ہونی چاہیں۔

 وفاقی وزیر علی زیدی نے کہا کہ یہ میرا مطالبہ ہے کہ عذیر بلوچ ، نثار مورائی اور سانحہ بلدیہ فیکٹری کی جوائنٹ تفتیشی رپورٹ بھی پبلک کی جائے جن افراد کے نام ان جے آئی ٹیز میں میڈیا پر آئے ہیں وہ آج بھی سیاست کر رہے ہیں، اگر وہ جے آئی ٹیز جھوٹی ہیں تو پھر کیوں قوم کے ٹیکس کا پیسہ اور وقت برباد کیا گیا ، ہم سمجھتے ہیں ایسا نہیں ہے وہ ٹھیک بنی ہیں مگر ان کو پبلک کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ دس اکتوبر دو ہزار سترہ کو ہم نے اس مطالبے کی تکمیل کے لیے پٹیشن دائر کی ، سندھ حکومت عدالت کے سامنے قومی مفاد کا بہانہ بناتی رہی، ہمارا ماننا ہے کہ بلدیہ فیکٹری کا سانحہ حادثہ نہیں، کھلی دہشت گردی تھی، اس کے ملزمان گرفتار بھی ہوئے مگر تا حال انصاف نہیں ہوا۔

علی زیدی نے کہا کہ سندھ ہائیکورٹ نے 28 جنوری کو سندھ حکومت کو ہدایات دیں کہ پیٹیشنر کو جے آئی ٹی رپورٹس فراہم کی جائے اور پبلک بھی کی جائیں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم نے چیف سیکریٹری کو اس فیصلے کے بعد خط لکھا انہوں نے جواب نہیں دیا اور نہ ہی فیصلے کو چیلینج کیا اس لیے آج ہم نے ایک درخواست پھر معزز عدالت کے پاس جمع کرائی ہے کہ سندھ حکومت توہین عدالت کی مرتکب ہو رہی ہے وہ جے آئی ٹیز کی رپورٹس فراہم نہیں کر رہی ہے۔