پشاور، 7جنوری(اے پی پی): وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے بہبود آبادی سید حسین احمد شاہ نے کہا ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد محکمہ بہبود آبادی کا اختیار صوبے کے حوالے کردیا گیا ھے، جس کے تناظر میں صوبائی حکومت نے “The Khyber Pakhtunkhwa Reproductive Healthcare Rights Act 2020” کا قانون منظور کر لیا۔ انہوں نے کہا فیملی پلاننگ ایسوسی ایشن آف پاکستان اور گرین سٹار پاکستان کمیونٹی میں خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات و سہولیات میں محکمہ کے ساتھ مدد کر رہا ہے۔ پاکستان آبادی فنڈ کے تحت وفاقی حکومت نے بڑھتی ہوئی آبادی کی روک تھام کیلئے 2 ارب روپے مختص کئے ہیں۔
وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے بہبود آبادی سید حسین احمد شاہ نے محکمہ بہبود آبادی کی دو سالہ کارکردگی کے حوالے سے پریس بریفنگ کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ صوبے کی آبادی میں اضافے کے باوجود محکمہ بہبود آبادی کے اہداف میں کافی حد تک بہتری آئی ہے۔
معاون خصوصی نے کہا کہ آبادی میں توازن اور اعتدال کو مد نظر رکھتے ہوئے اس وقت محکمہ بہبود آبادی صوبے میں سرگرم عمل ہے، صوبے کے شہری اور دیہی علاقوں میں خاندانی منصوبہ بندی کے مراکز اپنی خدمات مہیا کر رہے ہیں ۔
وزیر بہبود ابادی سید حسین احمد شاہ نے کہا کہ بچوں کی پیدائش میں مناسب وقفہ لانے کیلئے مختلف مانع حمل ادویات بشمول ماں اور بچے کی صحت کیلئے عام ادویات بہم فراہم کی جاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ محکمہ بہبود آبادی صوبہ خیبر پختونخوا نے مشترکہ مفادات کونسل کی سفارشات کیمطابق مانع حمل ادویات کے استعمال کی موجودہ شرح 30 فیصد سے بڑھا کر 2030 میں 49 فیصد تک پہنچانے کا عزم کر رکھا ہے۔ اسی طرح اوسطاً فی عورت بچوں کی موجودہ شرح 4 سے کم کر کے 2030 میں 3 بچے فی عورت کیلئے منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
معاون خصوصی بہبود آبادی سید حسین احمد شاہ نے کہا کہ ان اہداف کے حصول سے صوبہ خیبر پختونخوا کی آبادی میں موجودہ سالانہ شرح اضافہ2.8 فیصد سے کم ہوکر 2030 میں 1.7 فیصد رہ جائے گی۔ 1,583,747 شادی شدہ جوڑوں کو خاندانی منصوبہ بندی کی ادویات و خدمات کیساتھ ساتھ 1,038,891 عام مریضوں کو مفت ادویات مہیا کی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ فلاحی مراکز اور موبائل سروس یونٹس کے تحت دورافتادہ علاقوں میں 16000میڈیکل کیمپس کا انعقاد کیا گیا اور محکمہ کے مختلف ٹریننگ سنٹرز کے زیر اھتمام 2600 سٹاف کو تربیت فراہم کی گئی۔
سید حسین احمد شاہ نے کہا خاندانی منصوبندی کی ترغیب اور مختلف قسم کی غلط فہمیوں کو دور کرنے کیلئے علماء اور عوامی نمائندوں کیلئے پورے صوبے میں صوبائی اور ضلعی سطح پر 17,346 ورکشاپ اور سیمینارز کا انعقاد کیا گیا۔ محکمہ کے فیلڈ سٹاف نے لوگوں کو خاندانی منصوبہ بندی کی ترغیب دلانے کیلئے 268,469 گروپ میٹنگز کیں اور خاندانی منصوبہ بندی اور چھوٹے کنبے کے فروغ کیلئے 170 اشتہارات مختلف قومی، صوبائی اور علاقائی اخبارات میں شائع کئے گئے ہیں۔
سید حسین احمد شاہ نے کہا کہ کثیر تعداد میں خاندانی منصوبہ بندی اور تولیدی صحت پر مبنی پیغامات کو ریڈیو اور کیبل نیٹ ورک کے ذریعے عوام الناس تک پہنچایا گیا ہے۔ محکمہ کے تحت حفظان صحت کے حوالے سے سکولوں میں 1,500 لیکچرز منعقد کئے گئے۔ خاندانی منصوبہ بندی کے پیغامات بینرز اور بل بورڈز کے ذریعے آویزاں کرنا پروگرام کا ایک باقاعدہ حصہ ہے، خصوصاً 11 جولائی عالمی یوم آبادی کو منانے کیلئے بڑے پیمانے پر اشتہارات دیئے جاتے ہیں۔
سید حسین احمد شاہ نے مزید کہا کہ مختلف کیڈر میں 140 ملازمین کی بھرتی کی گئی۔جن میں 46 آسامیاں (2% معذور) کوٹہ اور55 آسامیاں) 3%اقلیتی (کوٹہ کی بھی شامل ہیں۔ 200 مذہبی سکالرز/علماء/آئمہ/خطباء کو خاندانی منصوبہ بندی اور تولیدی صحت کے حوالے سے جوڈیشنل اکیڈمی پشاور میں بطور ماسٹر ٹرینر تربیت دی گئی۔ کئی عالمی ادارے، غیر سرکاری تنظیمیں اور پرائیویٹ ادارے محکمہ بہبود آبادی خیبر پختونخوا کے ساتھ خاندانی منصوبہ بندی اور تولیدی صحت کےفروغ میں تعاون فراہم کر رہے ہیں۔
معاون خصوصی بہبود آبادی نے کہا کہ حکومت نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت سٹنٹنگ اور غذائی ضروریات کے حوالے سے پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کے خاندانوں کیلئے غیر مشروط مالی معاونت شروع کی ہے۔











