شکر گڑھ،28 جون (اے پی پی ): چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس محمد قاسم خان نے کہا ہے کہ تمام ادارے اپنی حدود میں رہ کر کام کریں تو مسائل حل ہو جائیں گے، جج اگر انصاف کے تقاضے پورے نہیں کرتے تو یہ آئین کی خلاف ورزی ہے، ہر فرد ہر ادارے کو قانون کی حد میں رہ کر اپنا فرض ادا کرنا ہوگا۔کوئی بھی شخص یا ادارہ آئین و قانون سے بالاتر نہیں،نئی منزلوں کے حصول کے لئے جدو جہد جاری رہنی چاہیے ۔
ان خیالات کا اظہار چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس محمد قاسم خان نے نورکوٹ روڈ پر جوڈیشل کمپلیکس کی نئی عمارت کا سنگ بنیاد رکھنے اور پرانی کچہری میں واٹر فلٹریشن پلانٹ کے افتتاح کے بعد نجی ہال میں شکرگڑھ بار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ مشکل حالات میں چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالا،ہمت اور بساط کے مطابق نیک نیتی سے انصاف کی فراہمی کے لئے کام کیا۔انہوں نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے عدلیہ کو بند کرنے کا پریشر آیا،غریب اور لاچار سائلین کے لئے انصاف کی فراہمی کی خاطر عدلیہ کو بند نہیں کیا کہ عدالتیں بند ہونے سے ظالم اور سرمایہ دار غریبوں کا استحصال کریں گے، آئینی ادارے کے کام معطل کرنےسے بحران جنم لے سکتا تھا، کورونا کے سبب بیماری سے ججز،جوڈیشل افسران متاثر ہوئے،مشکل حالات میں وکلاء نے انصاف کے حصول میں اپنا کردار ادا کیا۔
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس محمد قاسم خان نے کہا کہ وکلاء عدالتی اورنظام انصاف کا حصہ ہیں ،جہاں قانون کی حکمرانی ہوگی وہی قوم ترقی کرتی ہے،کسی ملک کسی خطے میں یکساں قانون نافذ ہو تو ترقی ممکن ہے ہم سب مل کو آئین کے مطابق کردار ادا کریں۔انہوں نے کہا کہ شکرگڑھ میرا شہر ہے مجھے اس سے محبت ہے،یہاں کے لوگوں نے جنگوں میں بہت نقصان اٹھایا ، بے گھر ہوئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ شکرگڑھ میں شرح تعلیم ملک بھر میں زیادہ ہے،مجھے فخر ہے کہ شکرگڑھ میں خواتین کی تعلیم کی شرح دیگر علاقوں سے زیادہ ہے ۔











