عالمی برادری بھارت میں مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے، وزیراعظم عمران خان کا ترک ٹی وی کو انٹرویو

12

اسلام آباد۔2اکتوبر  (اے پی پی):وزیر اعظم عمران خان  نے ہفتہ کو ترک ٹی وی ٹی آر ٹی  کو دیئے گئے  انٹرویو کے دوران کہا کہ عالمی برادری بھارت میں مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہونے والے حملوں میں بھارت کے کلیدی کردار، ٹویٹر اکانٹس اور سوشل میڈیا کے ذریعے بھارت کی جانب سے پھیلائی جانے والی غلط اطلاعات، بھارتی مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے خلاف بھارتی اقدامات، مسلمانوں کے خلاف اس عمل کو روکنے کیلئے پاکستان کے کردار کے بارے میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ  ہمیں دیکھنا چاہئے کہ اس حوالہ سے انسانی حقوق کے گروپس کیا کرتے ہیں، وہ ہر سطح پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرتے ہیں اور وہ انسانی حقوق کی زیادتیوں کے حل کیلئے دبائو بڑھاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نہ صرف بھارت بلکہ خاص طور پر بھارتی مقبوضہ کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے، ہم اس مسئلے کو اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے فورم اور بین الاقوامی میڈیا سمیت ہر فورم پر اٹھاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب طالبان کی انسانی حقوق کی زیادتیوں کی بات کی جاتی ہے تو امتیاز نہیں ہونا چاہئے۔ جو کچھ کشمیر میں ہو رہا ہے اس کے بارے میں بھی عالمی برادری کو بات کرنی چاہیے، جہاں پر 9 لاکھ بھارتی فوج نے 80 لاکھ کشمیریوں کو کھلی جیل میں قید رکھا ہوا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس حوالہ سے یکساں پالیسی ہونی چاہیے۔ جب انسانی حقوق کے بارے میں امتیاز برتا جاتا ہے تو اس سے اداروں کی  ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہ کہ میرا اس حوالے سے بڑا مضبوط موقف ہے کہ عالمی برادری اور طاقتور ممالک کو کشمیریوں کے ساتھ ہونے والے مظالم پر بات کرنی چاہیے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس طرح بھارت پر دبائو بڑھایا جا سکتا ہے، جیسا کہ مشرقی تیمور میں ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالہ سے میرا موقف ہے کہ اگر آپ انسانی حقوق کی زیادتیوں کا تذکرہ نہ کریں تو آپ کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ نئے بلاکس کی تشکیل پر انہوں نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ دوبارہ کبھی ایسا نہ ہو کیونکہ منقسم دنیا کے مقابلے میں تعاون اور میل جول سے بہت کچھ حاصل کیا جاسکتا ہے۔