کوئٹہ۔22نومبر (اے پی پی):صوبائی وزیر تعلیم میر نصیب اللہ مری نے کہاہے کہ بلوچستان میں یکساں نصاب کیلئے محکمہ تعلیم کے حکام کی کاوشیں قابل قدر ہیں جنہوں نے صوبے میں ایک نظام کی تشکیل میں پہل کی ہے،ادارہ نصابیات کو جو ذمہ داری دی گئی انہوں نے بخوبی پوری کی نصاب کو دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے گا،سات اضلاع کے ساڑھے تین سو اساتذہ کو تعیناتی کردی گئی ہے،ا ساتذہ اپنے فرائض کی ادائیگی کو اولین فرض جان کر ادا کریں اگرچہ بلوچستان تعلیمی لحاظ سے پسماندگی کا شکار ہے مگر صوبائی حکومت سکولوں سے باہر رہنے والے طلباءوطالبات کو تعلیمی اداروں میں لانے کے لیے سنجیدگی سے اقدامات اٹھارہی ہے اور نئے تعلیمی سال کے آغاز پر اس ضمن میں خصوصی مہم چلائی جائے گی ،یہ بات انہوں نے پیر کے روز ادارہ نصایبات بلوچستان کے زیر اہتمام بوائز اسکاؤٹس ہال میں تین روزہ”یکساں قومی نصاب اوروفاقی وزارت تعلیم کی جانب سے مرتب شدہ نصابی کتب کا جائزہ لینے” کے عنوان سے منعقدہ سمینار کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی،اس موقع پر سیکرٹری ثانوی تعلیم عبدالرؤف بلوچ ،ادارہ نصابیات بلوچستان کے سربراہ نعمت اللہ کاکڑ سمیت محکمہ تعلیم کے اعلیٰ آفیسران اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔تقریب سے صوبائی وزیر تعلیم نصیب اللہ مری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ نصابیات نے اپنی ذمہ داری بخوبی ادا کی ہے صوبے میں یکساں نظام تعلیم کی تشکیل میں پہل کی ہے،انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت کی کوشش ہے کہ سکول سے باہر بچوں کو تعلیمی اداروں میں لایا جاسکے تاکہ وہ اگلے تعلیمی سال سے یکساں قومی نظام سے استفادہ حاصل کرکے معاشرے کے مفید شہری بن سکے ،سمینار سے صوبائی سیکرٹری ثانوی تعلیم عبدالرؤف بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں یکساں نصاب کے لئے اقدامات جاری ہیں بلوچستان حکومت سال 2022سے جدید نصاب کو متعارف کرائے گا اورنصاب کو عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے گا،انہوں نے کہا کہ صوبے میں یکساں تعلیمی نظام کو عملی شکل دینے کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز کو یکجا کیا گیا ہے ،اساتذہ کرام بھی ایک نصاف کو لاگو کرنے میں اپنا فیڈ بیک دیں ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں صرف نصاف کا تشکیل بڑا کام نہیں بلکہ طلبا کو اسکولوں میں لانا ایک چیلنچ سے کم نہیں ،تقریب سے ڈائریکٹر ادارہ نصابیات نعمت اللہ کاکڑ نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نصاب ہر پانچ سال بعد تبدیل ہوتا ہے تاہم 15 سال قبل 2006 میں نصاب تشکیل دیا گیا تھا، ان کا کہنا تھا کہ مدارس ،سرکاری اور نجی اسکولوں کیلئے ایک ہی نصاب معارف کرایا گیا ہے ،نئے نصاب میں بلوچستان کی روایات اور جدید تقاضوں کو مدنظر رکھا گیا ہے،درسی کتب باہمی مشاورت سے تشکیل دی جائے گی۔











