حکومت کو آئی ایم ایف پروگرام کے تحت جی ایس ٹی، پیٹرولیم لیوی معاملات سمیت پانچ بنیادی اقدامات اٹھانے پڑینگے، شوکت ترین

33

اسلام آباد۔22نومبر  (اے پی پی):وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ و محصولات شوکت ترین نے وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر اور چیئرمین ایف بی آر ڈاکٹر اشفاق کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو آئی ایم ایف پروگرام کے تحت جی ایس ٹی، پیٹرولیم لیوی معاملات سمیت پانچ بنیادی اقدامات اٹھانے پڑینگے۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ جی ایس ٹی میں اصلاحات کی جائیں گی، پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کو 610 ارب روپے سے کم کرکے 356 ارب روپے کیا گیا ہے، اس طرح سٹیٹ بینک ایکٹ میں ترامیم، کوویڈ کے بعد اخراجات کے آڈٹ اور اخراجات کے بینیفیشل اونرز کے بارے میں اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ مارچ سے جو سفر چھوڑا گیا تھا وہ آج سے دوبارہ شروع ہو گیا ہے، ہمارا یہ موقف تھا کہ ٹیرف بڑھانا مسئلہ کا حل نہیں ہے، کیپسٹی پیمنٹ ادائیگیوں کا مسئلہ بھی درپیش ہے، ہمارا یہ بھی موقف تھا کہ ٹیکس اصلاحات اور اس نوعیت کے دیگر اقدامات سے محصولات میں اضافہ ہو گا۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ ہم نے زراعت، کھادوں اور اشیاء خوراک کے حوالہ سے ٹیرف میں اضافہ کو روکا ہے، اسی طرح انکم ٹیکس میں پراویڈنٹ فنڈ اور پرسنل انکم ٹیکس کے سلیب کو بڑھنے نہیں دیا گیا۔