ماضی میں متضاد معاشی پالیسیوں اور خراب معاشی نظم و ضبط نے ملکی معیشت کو تباہ کر دیا تھا، گورنرسندھ

28

کراچی۔11نومبر  (اے پی پی):گورنرسندھ عمران اسماعیل نے کہا ہے کہ ماضی میں متضاد معاشی پالیسیوں اور خراب معاشی نظم و ضبط نے ملکی معیشت کو تباہ کر دیا تھا، یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ کراچی کے عوام کو صاف پانی کی فراہمی، سیوریج، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ، نالوں کی صفائی، اور ٹرانسپورٹ سمیت متعدد چیلنجز کا سامنا ہے جن کے حل کو ماضی میں نظر انداز کیا گیا، کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کو کراچی کے بڑے مسائل بشمول سیوریج، ٹرانسپورٹ اور عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیے وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر تیار کیا گیا ہے۔جاری اعلامیہ کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی(این ڈی یو )میں جاری نیشنل سیکیورٹی ورکشاپ کے شرکا کے وفد سے گورنر ہاو س میں ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔وفد کی قیادت ڈی جی اسٹریٹجک اسٹڈیز ریسرچ اینڈ اینالیسس(آئی ایس ایس ار اے)میجر جنرل احسان محمود خان نے کی۔نیشنل سیکیورٹی ورکشاپ کے شرکامیں معاشرے کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے قانون ساز، بیوروکریٹس، مسلح افواج کے اعلی افسران کے ساتھ ساتھ سول سوسائٹی کے نمائندے بھی شریک تھے۔گورنر سندھ نے شرکاکو بتایا کہ کراچی میں ٹرانسپورٹ کی بہتر خدمات کے لیے گرین لائن پروجیکٹ کی تکمیل کی صورت میں ایک اورسنگ میل عبور کر لیا گیا ہے۔ ایس آئی ڈی سی ایل کو گرین لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم(بی آر ٹی)کے لیے پہلے ہی 80 بسیں موصول ہو چکی ہیں اور یہ سہولت اس ماہ کے آخر تک فعال ہو جائے گی۔ گورنر سندھ نے سندھ انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ کے تحت چلائے جانے والے مختلف انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ پراجیکٹس کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پہلی بار، تبدیلی کے پیکج کے تحت 100 منصوبوں پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے ، ایس آئی ڈی سی ایل کے تحت جاری منصوبوں میں کراچی کو واٹر سپلائی کے لیے کے فورمنصوبے کو حتمی شکل دینا، شہر کے لیے جدید ترین فائر فائٹنگ سسٹم کی بحالی کے ضمن میں 52 فائر ٹینڈرز کی فراہمی کا کام مکمل کیا جا چکا ہے جبکہ کے ایم سی کی حدود میں مختلف اضلاع کے پانی اور سیوریج کے نظام سمیت مختلف سڑکوں/گلیوں کی بحالی اور نگرانی جیسے امور جاری ہیں۔