مقبوضہ  کشمیر کی عوام  اور سرکار  کے ذہنی  و قلبی  راستے  مختلف  ہیں ؛ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی

10

اسلام آباد،11نومبر  (اے پی پی):وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی جاری سنگین خلاف ورزیوں کو روکنے اور مظلوم کشمیریوں کو بھارتی قابض افواج کے ظلم و ستم سے بچانے میں اپنا کردار ادا کریں، مقبوضہ  کشمیر کی عوام  اور سرکار  کے ذہنی  و قلبی  راستے  مختلف  ہیں، کشمیر کی  مالی  مشکلات کی کوئی مثال  نہیں  ملتی، پاکستان  میں “سی ایف ایم ”  کا اجلاس کشمیر کے  مؤقف کو  بین الاقوامی فورمز پر اجاگر کرنے  میں  مددگار ثابت ہو گا۔

جمعرات کو یہاں او آئی سی کے خصوصی ایلچی برائے جموں و کشمیر یوسف الدوبے کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلسل بھارتی جارحیت اور بربریت نے  کشمیریوں کی معیشت کو 9ارب ڈالر سے زائد بھاری نقصان پہنچایا ہے۔انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کے بھارتی غیر قانونی اقدامات کی وجہ سے کشمیری عوام کو بے پناہ معاشی نقصان پہنچایا گیا ہے اور اس سے ان کی سیاحت بھی تباہ ہوگئی ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ  آج کشمیری جتنے مصائب کا شکار ہیں،پہلے کبھی ایسا نہیں تھا، کشمیری دہلی سرکار سے متنفر ہیں، بھارتی  اقدامات نے ان دوریوں میں مزید اضافہ کیا ہے۔انہوں  نے کہا کہ اوآئی سی کے نمائندہ جس طرح یہاں آزادی سے مظفر آباد جارہے ہیں اور لوگوں سے مل رہے ہیں، کاش سری نگر میں بھی اسی طرح آزادانہ  ملنے کا موقع مل سکے ،یا جس طرح یہاں میڈیا سے ملنے کا موقع مل رہا ہے اسی طرح سری نگر میں بھی آزاد میڈیا سے ملنے کا موقع مل جائے۔

کشمیریوں کی جدوجہد میں پاکستان کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے وزیر خارجہ  نے کہا کہ او آئی سی کے خصوصی ایلچی کا دورہ دنیا کے بڑے فورمز پر معصوم کشمیریوں کی آواز بلند کرنے میں مدد دے گا۔انہوں نے کورونا وبا کے دوران بھارتی غیر قانونی اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے توقع ظاہر کی کہ اسلام آباد میں ہونے والا او آئی سی کے وزرائے خارجہ کا آئندہ اجلاس کشمیری عوام کی آواز کو تقویت دینے کا ذریعہ بنے گا۔انہوں  نے کہا کہ مارچ 2022 میں او آئی سی کے وزرائے خارجہ کا اجلاس اسلام آباد میں ہوگا۔